Thursday, 14 May 2015

Don't Take Green Tea Right After Meal ...صحت مند رہنا ہے تو کھانے کے فوری بعد سبز چائے نہ پیئیں

کھانے کے فوری بعد سبز چائے پینا براہ راست منفی اثرات کا باعث ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل
ممبئی: سبز چائے کا باقاعدہ استعمال ہمیں کئی بیماریوں سے بچاتا ہے لیکن کبھی کبھار اس کے مضر اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں خاص طور پر کھانے کے فوری بعد سبز چائے پینا کافی بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔
بھارتی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق سبز چائے میں بڑی مقدار میں ایسے قدرتی اجزاء پائے جاتے ہیں جن سے جسم میں اضافی چربی بننا کم ہوجاتی ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال معدے اور جگر کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ خاص طور پر کھانے کے فوری بعد سبز چائے پینا براہ راست منفی اثرات کا باعث بنتا ہے۔
سائسندانوں کا کہنا ہے کہ معدے میں پیدا ہونے والا گیسٹرک جوس نظام انہضام میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن سبز چائے میں موجود قدرتی اجزاء اسے کمزور کردیتے ہیں جس کی وجہ سے کھانا صحیح طور پر ہضم نہیں ہوپاتا جو معدے اور جگر کی کئی بیماریوں کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔

Friday, 8 May 2015

Tested Treatment for Pain and Inflammation in the Gums....مسوڑھوں میں درد اور سوزش کیلئے آزمودہ علاج

مسوڑھے میں درد، سرخی اور سوزش جیسے مسائل کو کبھی بھی کم اہمیت یا نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ یہ بیماریاں انسان کی مجموعی صحت کو بے حد متاثر کر سکتی ہیں، لیکن ڈاکٹر کے پاس جانے سے قبل ایک بار درج ذیل گھریلو علاج کو ضرور آزمائیں کیوں کہ ماہرین کے مطابق گھریلو ٹوٹکوں کے ذریعے مسوڑھوں کے تمام امراض کا علاج ممکن ہے۔ یہ ٹوٹکے نہ صرف آپ کو مسوڑھوں بلکہ منہ کے دیگر امراض سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
ذہنی دبائو: اکیڈمی آف جنرل ڈینٹسٹری کے مطابق ذہنی دباؤ اور دانتوں کی صحت میں ایک ربط یا تعلق ہے۔ ذہنی دباؤ کے شکار افراد میں قوت مدافعت کا نظام کمزور ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایسے بیکٹریا سے لڑنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں جو مسوڑھوں کے امراض کو جنم دیتے ہیں۔ لہذا مسوڑھوں کے امراض سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ذہنی دبائو کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔
(بحری) نمک والا پانی: ایک کپ گرم پانی میں نمک کو حل کرکے تقریباً 30 سیکنڈز تک ایک گھونٹ منہ میں رکھنے کے بعد تھوک دیں۔ اس مشق کو دن میں دومرتبہ کئی بار دھرانے سے آپ مسوڑھوں کی سوزش سمیت دیگر انفیکشنز سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
چائے کا بیگ (ٹی بیگ) : گرم پانی میں ٹی بیگ ڈالیں اور تھوڑی دیر بعد اسے نکال کر ٹھنڈا کر لیں۔ بعدازاں اس ٹی بیگ کو 5منٹ تک مسوڑھوں کے متاثرہ حصہ پر رکھ لیں، تو آپ ٹی بیگ میں موجود ٹینک ایسڈ سے فوری آرام محسوس کریں گے۔
شہد کی مالش: شہد میں قدرتی طور پر اینٹی بیکٹریل صلاحیت موجود ہوتی ہے، لہذا برش کرنے کے بعد شہد کو متاثرہ جگہ پر لگا کر ہلکی سی مالش کرنے سے انفیکشن کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
کروندے (کرین بیری) کا جوس: کروندے کا جوس بیکٹریا کو آپ کے دانتوں سے چمٹنے سے باز رکھتا ہے، لہذا روزانہ تقریباً 4 اونس کروندے کا جوس ضرور پیئں۔
لیموں کی پیسٹ: لیموں کے رس میں نمک ملا کر ایک پیسٹ بنا لیں اور پھر اسے اپنے دانتوں پر لگائیں۔ 5 منٹ کے بعد نیم گرم پانی سے غراروں کے ذریعے منہ صاف کر لیں تو آپ کو مسوڑھوں کے درد سمیت دیگر مسائل میں واضح آرام محسوس ہوگا۔
وٹامن سی سے بھرپور غذائیں: صرف لیموں ہی نہیں بلکہ وٹامن سی سے بھرپور دیگر غذائیں جیسے مالٹا، انگور، پپیا اور سٹرابیری بھی دانتوں کے لئے بہت اچھے تصور کئے جاتے ہیں۔ وٹامن سی ایک اینٹی آکسیڈینٹ ہے جو آپ کو مسوڑھوں کے مختلف مسائل سے پیدا ہونے والے امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔
وٹامن ڈی: مسوڑھے میں سوزش کی صورت میں وٹامن ڈی کا استعمال زیادہ کریں، یعنی ایسی غذائیں کھائیں جن میں اس وٹامن کی کثیر تعداد پائی جاتی ہو، کیوں کہ یہ نہ صرف پھولے ہوئے مسوڑھے میں آرام دے گا بلکہ آئندہ سے اس بیماری سے حفاظت بھی کرے گا۔
سوڈا سے دانتوں کی صفائی: سوڈا میں موجود ایسڈ کسی بھی دوائی سے زیادہ مسوڑھوں کو مختلف امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ سوڈا کی تھوڑی سی مقدار کو نیم گرم پانی میں مکس کرکے اسے دانتوں پر لگائیں۔
تمباکونوشی سے چھٹکارا: تمباکو جسم میں مختلف انفیکشنزسے لڑنے کی صلاحیت کو کم کر دیتا، اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں کہ سگریٹ نوشی کرنے والے زیادہ تر افراد مسوڑھوں کے مسائل کا شکار بن جاتے ہیں، لہذا اگر مسوڑھوں کو مرتے دم تک تندرست رکھنا چاہتے ہیں تو تمباکو سے دور رہیں۔

Ladies High Heel Sandals Causes Back Terrible Pain...اونچی ہیل والی سینڈل خواتین میں کمر کی خوفناک تکلیف کا باعث بنتی ہے

اکثر خواتین سمجھتی ہیں کہ اونچی ہیل والی سینڈل عورت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے اسی لیے تقریبات سے لے کر کیٹ واک تک خواتین اونچی ہیل والی سینڈل یا سینڈل پہننا پسند کرتی ہیں لیکن انہیں شاید یہ خبرنہیں کہ اونچی ہیل پاؤں اور کمر سمیت ایڑھی میں خطرناک تکلیف کی وجہ بنتی ہے۔
کمر کی تکلیف اور اسپائنل کارڈ کو نقصان: اونچی ہیل کا مسلسل استعمال کمر کی اسپائنل کارڈ کو شدید نقصان پہنچا تا ہے اسی لیے ورکنگ ویمن میں کمر کی تکلیف عام ہوتی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمر کی تکلیف اکثر مستقل اونچی ہیل استعمال کرنے والی خواتین میں سامنے آتی ہے کیونکہ اونچی ہیل کا استعمال جسم کو غیر متوازن کردیتا ہے اور یہی تمام قسم کی کمر کی تکلیف کا نقطہ آغاز ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مستقل طورپر اونچی ہیل والی سینڈل سے جسم کی ترتیب خراب ہوجاتی ہے جس سے ریڈھ کی ہڈی غیر معمولی طور پر مڑ جاتی ہے جو اسپائن کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ہیمسٹرنگ انجری: اونچی ہیل والی سینڈل پہننے والی خواتین کی ہڈیاں سخت اور اکڑن کی کیفیت سے دو چار ہوجاتی ہیں جو’’لوئر لمبو سیکرال اسپائن‘‘ اور ’’پیلوس‘‘ سے آنے والے ہیمسٹرنگ اور ہپ کے پٹھوں کی خرابی کا باعث بن جاتا ہے جسے ہائپر لوڈوسس اور ہائپر لورڈوسس کہا جاتا ہے۔ بیک بون میں یہ خرابی انٹر ورٹیبرال ڈسک پر دباؤ کو بڑھا دیتی ہے جس سے کمر اور پیلوس کے جوڑ بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر یہ بیماری زیادہ دیر تک رہے تو خواتین نوجوانی میں ہی ہڈیوں کی لچک سے محروم ہوکر معذوری کا شکار ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق اونچی ہیل کمر کے نچلے حصے کی تکلیف کے ساتھ ساتھ  سلپڈ ڈسک اور درد عرق النسا کا بھی باعث بنتی ہے اور اکثر خواتین سلپڈ ڈسک کا شکار رہتی ہیں کیوں کہ عورت کے جسم کی ساخت میں ذرا سا بھی زیادہ وزن براہ راست اس کی کمر کو متاثر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کمر کی تکلیف ایک دفعہ ہوجائے تو یہ ختم ہونے میں 3 سے 4 ہفتے لیتی ہے جس میں مریض کو مکمل بیڈ ریسٹ کرنا ضروری ہوتا ہے اور ساتھ ہی اس میں کریم، جیل اور پین کلر استعمال کی جاتی ہیں جب کہ اگر کمر میں تکلیف کے ساتھ سوجن بھی ہوتو متاثرہ جگہ پر آئس بکس لگایا جاسکتا ہے جو شریانوں میں خون کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے جس سے ٹشوزکو آکسیجن ملتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جو خواتین حمل کے دوران اونچی ہیل کا استعمال کرتی ہیں ان کے لیے یہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ حمل کے دوران خواتین کا وزن مسلسل بڑھتا ہے جس سے سینٹر آف گریویٹی تبدیل ہوتا رہتا ہے اوراس سے کمرپر دباؤبڑھتا ہے۔

Late Night Dinner Can Cause Chest Cancer .....خواتین کا رات کو دیرسے کھانا سینے کے کینسرکا سبب بن سکتا ہے

فلاڈیلفیا: انسان بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث اپنے کھانے پینے کے اوقات ہی بھول بیٹھا ہے اور اسے جب بھی وقت ملتا ہے اس وقت کھانے کوترجیح دیتا ہے جس کے بے شمار نقصانات ہیں لیکن خاص کر خواتین کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ بے وقت کا کھانا ان کے لیے کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رات کو دیر سے کھانے کی عادت خواتین میں سینے کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

امریکن ایسوسی ایشن فار کینسر ریسرچ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق رات کا کھانا جلدی کھانے اور رات میں اسنیکس کھانے کی عادت چھوڑ دینے سے فشار خون اور شوگر لیول کم ہوتا ہے جس سے ذیابیطس جیسی بیماری پیدا نہیں ہوتی تاہم اس کے برعکس رات کا کھانا دیر سے کھانے سے کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے 2 ہزار خواتین پر تحقیق کے بعد کہا گیا ہے کہ رات کے کھانے اور اگلی صبح کے ناشتے میں ہر 3 گھنٹے اضافے کے باعث خون میں گلوکوز کا لیول 4 فیصد کم ہوجاتا ہے جب کہ دن کے دیگر اوقات میں خواتین کتنا بھی کھائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ محقیقن کا کہنا ہے کہ گلوکوز کینسر سیل میں تیزی سے اضافے کا باعث بنتے ہیں جب کہ گلوکوز کو ختم کرنے والی انسولین اگرچہ وقتی شوگر لیول کو کنٹرول کرتی ہے تاہم سائیڈ انفکیشن کے طور پر یہ سینے کے کینسر کے خدشے کو بڑھاتی ہے۔

  • تحقیق کے بانی امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر کے مطابق اس تحقیق میں ان خواتین کے لیے واضح پیغام ہے جو کھانے کے بعد بھی رات کو سونے سے قبل اسنیکس وغیرہ کھاتی ہیں کیونکہ رات کے کھانے اور اگلی صبح کے ناشتے کے وقت میں جتنا زیادہ فاصلہ ہوگا اتنا ہی سینے کے کینسر کا خدشہ کم ہوتا ہے جب کہ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک سادہ غذائی پلان ہے جسے اپنا کر خواتین ایک مہلک بیماری سے بچ سکتی ہیں۔

Thursday, 7 May 2015

Life Saving Drugs Might Be Dangerous For Life ....جان بچانے والی دوا سے جان جانے کا خطرہ

فرینکفرٹ: یوں تو جان بچانے والی ادویات بہت سی ہوتی ہیں لیکن دل کے امراض سے بچانے والی ایک دوا سرفہرست ہے جس سے عارضہ قلب میں مبتلا افراد کی اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دل کے دورے سے بچانے والی مشہور دوا Digoxin کے استعمال سے موت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ دوا ایسے مریضوں کو استعمال کروائی جاتی ہے جن کے دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی یا کمی پائی گئی ہولیکن کچھ  متنازعہ ثبوتوں کے ساتھ  یہ نئی تحقیق سامنے آئی ہے کہ اس دوا کے استعمال سے ایسے مریضوں کی شرح اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جرمنی کی جے ڈبلیو، گویتھ یونی ورسٹی میں ہونے ہونے والی تحقیق ایک مرحلہ واراسٹڈی کا حصہ تھی  جس میں  1993 سے 2015 کے درمیان ہونے والی ایسی اموات کی نشاندہی کی گئی تھی، خصوصاً ان مریضوں میں جن میں کل 235,047 افراد شامل تھے  جنھیں دل کی دھڑکن میں کمزوری اور بے قاعدگی کی شکایت تھی۔ ان میں سے 21 فیصد کو Digoxin کا استعمال کروایا گیا تھا۔ یہ دوا Foxglove پودے سے کشید کی جاتی ہے اوریہ دل کی دھڑکن کو مضبوط اور باقاعدہ رکھنے میں مددگار تصور کی جاتی تھی۔

Four Simple Recipes For Pain....درد اورتکلیف سے فوری نجات پانے کے 4 آسان نسخے

نیویارک: بعض اوقات جب انسان شدید تکلیف میں ہو تو دوائیں کھانے کے باوجود اس کے درد کی شدت کم نہیں ہوتی اور جوں جوں دوا کی درد بڑھتا رہا کے مصداق تکلیف بڑھتی رہتی ہے لیکن محققین کی جانب سے 4 ایسے آسان طریقے سامنے لائے گئے ہیں جن پر عمل کرکے آپ فوری شدید تکلیف سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔
انگلی پر انگلی رکھنا: اچانک دروازہ بند ہوا اور آپ کی انگلی دروازے میں آجائے تو شدید تکلیف سے آپ کراہ اٹھتے ہیں اورکافی دیر تک درد سے پورا جسم تڑپ اٹھتا ہے تو جناب اب آپ پریشان نہ ہوں اور درد کی شدت سے زبان دانتوں کے نیچے دبانے کی بجائے سکون سے بیٹھ جائیں اور اپنی ایک انگلی کو کراسنگ کے انداز میں دوسری انگلی پر رکھ کر دبائیں، حیرت انگیز طور پر آپ کا درد غائب ہوجائے گا۔
اس تحقیق میں شامل ایک محقق کا کہنا ہے کہ اس عمل سے دماغ دھوکہ کھا جائے گا کیونکہ دماغ نروز پاتھ وے سے  گرم، ٹھنڈا اور درد محسوس کرتا ہے اورجب انگلیوں کو کراس کیا جاتا ہے تو درد کم ہونے لگتا ہے اس جسم کا انداز تبدیل کرنے سے دماغ کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے جس سے درد میں کمی ہوجاتی ہے۔
پسندیدہ آواز سن کر: کوئی گانے یا کسی اورآواز جس سے آپ محبت کرتے ہیں تو اسے سننے سے درد کم ہوتا ہے ۔ طبی جریدے پلوس ون میں شائع نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جب کچھ رضا کاروں کی جلد کو شدید حرارت دی گئی تو وہ تکلیف سے کراہ اٹھے لیکن اس دوران کچھ لوگوں کو ان کا پسندیدہ گانا یا آواز سنائی تو انہوں نے درد میں واضح کمی محسوس کی اور جو ایسے ہی بیٹھے رہے وہ زیادہ دیر تک تکلیف میں مبتلا رہے۔
سر میں درد ہو تو اسے انگلیوں سے دبائیں: اگر سر میں شدید درد ہو تو کوئی پین کلرکھانے کی بجائے ایکو پریشریعنی انگلیوں سے سر کو دبانے  کے طریقے سے بآسانی درد سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ 2010 میں کی گئی ایک تحقیق میں جن لوگوں نے ایکو پریشر کا طریقہ اختیار کیا انہیں درد میں واضح کمی ہوئی جب کہ درد کی گولیاں کھانے والوں کو کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ اس طریقہ کے مطابق جب بھی آپ درد محسوس کریں اپنے دونوں ہاتھ کے انگھوٹوں سے سرکو درمیان سے دباتے ہوئے سر کی دونوں جانب گھمائیں یہاں تک کہ جب تک آپ کو درد سے نجات نہ مل جائے۔
پسندیدہ کھانے کا تصور کرنا: ایک دلچسپ تحقیق کے مطابق جب خواتین حیض کے دوران شدید درد محسوس کریں تو وہ اپنی پسندیدہ چاکلیٹ یا اپنی ماں کے ہاتھ کے پکے ہوئے مزے دار کھانے کا تصور کریں اس سے درد میں بہت فرق محسوس ہوگا۔ 2008 میں فوڈ ویجیو لائزیشن پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پسندیدہ کھانے کا تصور درد میں واضح کمی لاتا ہے جب کہ سیر کرنے یا کوئی دلکش منظر دیکھنے جیسی پریکٹس سے اس میں اتنی کمی نہیں آتی۔

Muscle Weakness Causes Headache....پٹھوں کی کمزوری سر درد کا باعث بنتی ہے، تحقیق

کوپن ہیگن: پریشانی اور ذہنی دباؤ میں اکثرلوگ سر درد کا شکار ہوجاتے ہیں جو بعض اوقات ہائی بلڈ پریشر اور برین ہیمرج کا باعث بن جاتا ہے اسی حوالے سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پریشانی میں سر میں اٹھنے والا سردرد دراصل کندھوں اور گردن کے پٹھوں میں کمزوری کے باعث  ہوتا ہے۔
ڈنمارک میں کی جانے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ پریشانی کے باعث اکثر سر درد کا شکار ہوتے ہیں ان میں سے 26 فیصد افراد گردن اور پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے سر میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے بانی ڈنمارک ہیڈیک سینٹر کے فزیو تھراپسٹ بی جارن ایچ میڈسن کا کہنا ہے کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس پر مزید تحقیق کی جائے کہ سر درد کا پٹھوں اورہڈیوں کے اثرات سے کتنا گہرا تعلق ہے تاہم پٹھوں کو مضبوط کرنے والی ٹریننگ سے سر درد سے نجات پائی جاسکتی ہے۔
گزشتہ تحقیق میں کہا گیا تھا کہ پٹھوں کی کمزوری اور پریشانی میں ہونے والے سر درد سے گہرا تعلق ہے اور اس مطالعے نے اس میں مزید روشنی ڈالی ہے۔ تحقیق میں شامل ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پریشانی میں ہونے والے سردرد میں مریض محسوس کرتا ہے کہ کوئی ربر بینڈ زور سے اس کے سر کے گرد باندھ دیا گیا ہے اور سر میں ہروقت ہلکا درد محسوس ہوتا رہتا ہے تاہم سر درد کی دو اقسام (کلسٹر اور مائگرین) کے دوران درد زیادہ شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ کلسٹر سردرد عام طور پر شدید نزلہ یعنی سانس اور ناک کے بہنے سے ہوتا ہے جب کہ مائگرین سر میں تیزی سے ارتعاش اور الٹیوں کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے باعث سر میں شدید درد اٹھتا ہے۔
تحقیق کے دوران 60 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جنہیں پریشانی کے باعث سردرد ہوتا تھا اور30 صحت مند لوگوں کو شامل تحقیق کیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ان 30 صحت مند افراد میں سے صرف 3 افراد کو مائیگرینز کا سردرد ہوا جب کہ اس دوران جب انہوں نے سر پیچھے کی جانب جھکایا تو گردن کے ایکسٹینسر پٹھوں اور جب آگے کی جانب جھکایا تو ’نیک فلیکسر‘ پٹھوں کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 26 فیصد صحت مند افراد میں پٹھے پریشانی میں سر درد رکھنے والے افراد سے زیادہ مضبوط پائے گئے۔
میڈسن کاکہنا ہے کہ لیپ ٹاپ، کمپیوٹراور ٹیبلٹ پر زیادہ دیر بیٹھنے سے بھی گردن اور کندھے کے پٹھوں پر اثر پڑتا ہے جس سے سر میں درد بھی بڑھ جاتا ہے تاہم اسے کندھوں کے پٹھوں کو مضبوط کرنے والی مشقوں سے اس پر قابوپایا جاسکتا ہے۔