Saturday, 23 May 2015

Control Sugar / Diabetes With Easy to Domestic Prescriptions....شوگر کو کنٹرول کرنے کے آسان گھریلو نسخے

دنیا بھر میں لوگوں کی اکثریت شوگر کی بیماری کا شکار ہے جب کہ شوگر صرف خود ایک بیماری نہیں بلکہ اس سے بلڈ پریشر، اندھا پن، گردے، دل کی بیماریاں، شریانوں کو نقصان اسٹروک اور کوما جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں لیکن چند گھریلو نسخے استعمال کر کے ذرا سی محنت اور توجہ سے گھر بیٹھے اس بیماری کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
قدرتی کچی غذائیں: چند قدرتی غذائیں ایسی ہیں جن کو اگر کچا کھایا جائے تو یہ شوگر کا بہترین علاج ہے ان غذاؤں میں پھل، جوسز، نٹس اور سبزیاں شامل ہیں جن میں قدرتی طورپر انزائم اور فائبر موجود ہوتا ہے جو جسم میں شوگر کو رفتہ رفتہ جذب کرتا ہےجس کے نتیجے میں بلڈ پریشر لیول متوازن رہتا ہے۔ سیب، آڑو، بیر، گاجر، لیموں اور اورنج میں حل پذیرفائبر بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جو کہ بلڈ پریشر کے ساتھ کولیسٹرول لیول کو بھی متوازن رکھتا ہے۔
ورزش: ورزش اور پیدل چلنے سے نہ صرف شوگر بآسانی کنٹرول کی جاسکتی ہے بلکہ اس کی شدت کو طویل عرصے تک روکا جا سکتا ہے۔ ورزش سے وزن کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے جب کہ یہ جسم میں انسولین کی حساسیت کو بڑھا دیتی جو ٹائپ 2 شوگر کی وجوہات کو ختم کرتی ہے جب کہ اس سے بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔
مراقبہ کے عمل سے: مراقبے کا عمل جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت کو کم کرتا ہے جب کہ کولیسٹرول اور ایڈری نا نائل نامی ہارمونز کو بڑھا دیتا ہے جو جسم سے انسولین اور گلوکوز کا لیول بڑھا جاتا ہے ان ہی ہارمونز کا استعمال کرتے ہوئے گلوکوز اور انسولین کو توازن میں رکھا جاتا ہے۔
تلسی کے پتے: ان پتوں میں خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کی بھر پور صلاحیت ہوتی ہے کیوں کہ ان پتوں میں اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتا ہے جو آکسی ڈیٹیو اسٹریس لیول کو کم کرتا ہے جو کہ شوگر کا باعث بنتا ہے۔
ناگ پھنی اور السی کے بیج: ناگ پھنی کا جوس خون کی شوگر کو کم کرتا اور انسولین کے لیول کو بڑھا دیتا ہے جب کہ السی کے بیج پوسٹ پینڈیل شوگر کے لیول کو 28 فیصد تک کم کردیتی ہے۔
بلبیری کے پتے اور دارچینی: بالبیری کے پتے شوگر کو لیول کم کرنے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں جب کہ مسلسل ایک ماہ  تک دار چینی کا استعمال بھی خون میں شوگر کو قابو میں مدد کرتا ہے۔
سبز چائے کا استعمال: سبز چائے کے پتوں میں فائبر موجود ہوتا ہے جو کھانے کے ٹوٹنے کے عمل کو آہستہ کردیتا ہے جو شوگر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسپغول کے ذریعے: اسپغول کوعام طور پر قبض کشا سمجھاجاتا ہے اور جب اسے پانی میں حل کیا جاتا ہے تو پھول کر جیلی کی شکل اختیار کرلیتا ہے جو گلوکوز کے جذب ہونے کے عمل کو آہستہ کردیتا ہے جب کہ اسپغول شوگر میں استعمال ہونے وال ڈرگ میٹفورمن کے مضر اثرات کو بھی ختم کرتا ہے۔
مالش کے ذریعے: مالش جسم میں موجود انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو بڑھاتی ہے جب کہ مالش سے پینکریاز اور ہارمونیل سسٹم کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔
کریلے کے چھلکے اور لوکی: ان میں انسولین پولی پیپ ٹائیڈ پی بناتے ہیں جو شوگر کو کنٹرول کرنے میں بے حد مفید ہیں۔ لوکی سے چائے، کئی ڈشز سالن اور سوپ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
نیم کے تازہ کونپلیں: نیم کے تازہ پتوں کے جوس کو نہار منہ استعمال سے شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بنولہ کے بیج: بنولہ کے بیج میں قدرتی طور پر اینٹی آکسیڈینٹس بوریج تیل موجود ہوتا ہے جو خون میں موجود شوگر کے لیول کو کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔

Nail Polish Increases The Risk of Cancer ...ناخن پالش سے کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں،

کیلیفورنیا: خواتین عام طور پر اپنے چہرے اور ناخن کی خوبصورتی کے لیے مصنوعی کریموں اور ناخن پالش کا استعمال کرتی ہیں جس سے عارضی خوبصورتی تو مل جاتی ہے لیکن طبی طور پریہ مصنوعات صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ ایک تحقیق کے مطابق ہاتھوں کی خوبصورتی بڑھانے والی ناخن پالش انسان کو کینسر جیسی خوفناک بیماری میں بھی مبتلا کرسکتی ہے۔
امریکا میں ناخن پالش پر کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ناخن پالش میں موجود کیمیکل میں زہریلے عنصر پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتے ہیں  جس سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیلیفورنیا کی اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ناخن پالش میں موجود کیمیکل کینسر سے لے کر تولیدی عمل میں پیچیدگیوں جیسی بیماریوں کو جنم دیتا ہے کیونکہ ناخن کیئر مصنوعات میں زہریلے اور خطرناک اجزا موجود ہوتے ہیں جو کہ کینسر پیدا کرنے والے مرکب فارمیلڈی ہائیڈ اور دیگر اجزا کی پیدائش کرتا ہے اور یہ جسم کے ہارمونز کے نظام کو تباہ کردیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تین زہریلے عناصرٹولیون، فارمیلڈی ہائڈ اور فیتھا لیٹ انسانی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں جب کہ اس سے بیوٹی پارلرپرکام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ بیوٹی پارلرز میں ان کیمیکل  سے نکلنے والے بخارات کے اخراج کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا جس سے ان کیمیکل کے اثرات کمرے میں ہی رہ جاتے ہیں اورہوا کے ذریعے کام کرنے والے افراد کے سانس سے جسم میں داخل ہوکر جلد، آنکھوں، سانس، سر کا درد اور الرجی جیسی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ناخن پالش میں ان تین زہریلے اجزا کے علاوہ کچھ اور خطرناک کیمکل بھی موجود ہوتے ہیں جب کہ ٹولیون وہ جز ہے جو ناخن پالش کو چمک دیتا اور اس کے رنگ کو بحال رکھتا ہے لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ یہ عنصر مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے جو تولیدی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک ان مصنوعات سے ایسی بیماریوں کے علاوہ تولیدی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں جن میں اچانک اور وقت سے پہلے بچے کی پیدائش کے ساتھ کم وزن کے بچے کی پیدائش جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے اس لیے خواتین کو ناخن پالش کے استعمال میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔

Remove Your Eyes Weakness....اپنی آنکھوں کی کمزوری دور کیجئے

یوں تو جسم کا ہر حصہ انسان کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے لیکن آنکھیں قدرت کا عطا کردہ ایسا بیش بہا تحفہ ہے کہ جس سے انسان کائنات کے رنگوں اور حسن و دلکشی سے لطف اندوز ہوتا ہے اور جب کہ اس کی اہمیت کا احساس اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب انسان کی بینائی کھو جائے تو زندگی پھیکی اور بوجھ لگنے لگتی ہے، انہی آنکھوں پر ذرا سی توجہ دے کر ہم اپنی بینائی کو بہترکرسکتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کہ مختلف ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کردہ آسان ٹپس اور  ذرا سی کوشش سے آنکھوں کی بینائی کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
آنکھوں کے لیے ریلیکسیشن مشق: اپنے دونوں ہاتھ کی ہتھیلیوں کو آپس اچھی طرح رگڑیں یہاں تک کہ وہ گرم ہوجائیں اب انہیں اپنی آنکھوں پر کچھ دیر کے لیے رکھ دیں جبکہ اس دوران روشنی کو آنکھ تک نہ آنے دیں، یہ عمل دن میں کئی بار دہرایا جاسکتا ہے۔
آنکھوں کو مسلسل جھپکانا: مسلسل آنکھوں کو جھپکانے سے آنکھیں تازہ رہتی ہیں اور آنکھ پر کام کے بوجھ کے اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ کمپوٹر پر کام کرتے ہیں ان کی آنکھیں مسلسل ایک ہی جگہ دیکھنے کی وجہ سے جلدی تھک جاتی ہیں ایسے افراد کے لیے ہر 3 سے 4 سینکڈ بعد آنکھیں جھپکانا بہترین مشق ہے۔
فاصلے پر نظر جمائیں: کمپیوٹر استعمال کرنے والے لوگ عام طور پر دور کی نظر کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں ایسے افراد کو چاہئے کہ زیادہ فاصلے پر موجود کسی چیز کو بغور 5 سیکنڈ تک دیکھیں اور اس عمل کو 30 سے 45 منٹ بعد دہرائیں، اس عمل سے دور کی اشیا پر فوکس رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
پانی کے چھینٹے ماریں: اگر آپ محسوس کریں کہ آپ کی آنکھیں بوجھل ہورہی ہیں تو فوری اپنی آنکھوں کو اچھی طرح پانی سے دھو لیں اس دوران پانی کو زور سے آنکھوں پر ماریں جبکہ اس عمل کو روزانہ دہرائیں۔ اس طرح دھونے سے آنکھوں پر پڑنےوالے زیادہ بوجھ سے نجات مل جائے گی اور تازگی محسوس کریں گے۔
ہندسے 8 کی مشق: یہ مشق آنکھوں کی لچک کو بڑھا دیتی ہے، اس مشق کے دوران  اپنے تصور میں 8 کے ہندسے کو خود سے 10 فٹ کے فاصلے  پربنائیے اور اپنی آنکھوں میں الگ الگ 8 کے ہندسے کو ٹریس کریں۔
زومنگ ورزش کی مشق:آرام دہ پوزینشن میں بیٹھ جائیں، اپنے بازوں کو آگے کی طرف مکمل طور پر پھیلا دیں اور ہاتھ کے انگھوٹوں کو آہستہ آہستہ اپنے چہرے کے قریب لاتے جائیں یہاں تک کہ انگھوٹے چہرے سے صرف 3 انچ کے فاصلے پر رہ جائیں، اب اپنے انگھوٹوں کو دوبارہ اپنے چہرے سے دور کرتے جائیں۔ اس مشق کو چند سیکنڈز تک دہرائیں۔
صبح کی واک: علی الصبح واک آنکھوں کو تازگی اور سکون دیتی ہے جبکہ صبح سورج کی مناسب روشنی بھی آنکھوں کو حاصل ہوتی ہے۔
اپنی آنکھوں کو چشمے کا محتاج نہ بنائیں: چشموں سے صرف آنکھوں کی تیزی سے خراب ہوتی روشنی کو روکا تو جاسکتا ہے لیکن بہتر نہیں کیا جاسکتا اس لیے کوشش کریں کہ اوپر دی گئی ٹپس کا استعمال کریں اور اپنی آنکھوں کو چشمے کا محتاج نہ بنائیں۔

Tuesday, 19 May 2015

Vitamin C Is Essential For Health.....صحت کے لئے ’’وٹامن سی‘‘ انتہائی ضروری

وٹامن سی ہڈیوں اور دانتوں کو بھی مضبوط اور صحت مند بناتا ہے، فوٹو:فائل
 کراچی: وٹامن سی  نہ صرف ہمیں گرمی کے موسم میں  جسم پر پڑنے والے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے  بلکہ  بیماریوں سے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
وٹامن سی ہمارے جسم میں موجود پانی اور خون میں شامل ہو کر بالوں،ناخنوں اور جلد کی نشو ونما میں مفید ثابت ہوتا ہے جب کہ یہ ہڈیوں اور دانتوں کو بھی مضبوط اور صحت مند بناتا ہے۔وٹامن سی تازہ سبزیوں اور ترش پھلوں میں بکثرت پایا جاتا ہے ،اگر آپ وٹامن سی کی کمی کا شکار ہیں تو درج ذیل چیزوں کا استعمال کرکے خود کوصحت مند بناسکتے ہیں۔

مالٹا:
یہ  وٹامن  حاصل کرنے کا سب بڑا خزانہ ہے اور اس میں کثیر مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔ اس کےجوس میں شامل فلیونائیڈز وٹامن سی کے ساتھ مل کر جسم کے مدافعتی نظام کو بڑھاوا دیتے ہیں اور خون کی نالیوں کو مضبوط بناتے ہیں، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق مالٹا کھانے سے انسانی مزاج پر انتہائی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
شملہ مرچ:یہ سبزی بھی توانائی حاصل کرنے کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے اور اس میں  بڑی مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔سلاد  اور سوپ میں شامل کرکے اس بہترین سبزی کے فوائد سے مکمل طور پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
اسٹرابری:
بڑی مقدار میں وٹامن سی حاصل کرنے کے لئے اسٹرابری  سے بہترین کوئی چیز نہیں،ذائقہ بخش اور فرحت افزا یہ پھل وٹامن سی کے علاوہ فولاد سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔اسٹرابری کا ملک شیک بنا کر پینے سے اس کے فوائد میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

پپیتا:
یہ پھل بھی وٹامن  سی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،اس کے علاوہ پپیتے میں وٹامن اے اور پوٹاشیم بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ،پپیتا قبض کشاء پھل ہے جس میں فائبر کی موجودگی کولیسٹرول لیول کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔

Friday, 15 May 2015

Lemon: Invaluable Gift of Nature With Numerous Features .....قدرت کے انمول تحفے لیموں کی بے شمار خوبیاں

اگر آپ کی جلد خشک اور رف ہے تو لیموں کے رس کے ساتھ اتنی ہی مقدار میں شہد ملا لیں اور اسے اپنے چہرے، ہاتھ اور پاؤں پر لگائیں، فوٹو فائل
لیموں قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جو اپنے اندر بے شمار خوبیاں سموئے ہوئے ہے جب کہ اس کی مدد سے جلد، بال اور ناخن کو خوبصورت اور دلکش بنایا جاسکتا ہے۔
لیموں کے رس سے جلد کو نکھاریئے: اکثر لوگ بالخصوص خواتین اپنے چہرے پر کیل مہاسوں اور کالے رنگ کے نشانات بن جانے سے سخت پریشانی رہنے لگتی ہیں اور اس کو دور کرنے کے لیے انتہائی مہنگی کریموں کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن لیموں کا رس یہ کام کم وقت اور کم خرچے میں کر دیتا ہے۔ لیموں کے چند قطرے لیں اور روئی کے ٹکڑے میں جذب کر کے اپنے چہرے پر لگائیں اور 20 منٹ بعد چہرہ دھو لیں اس عمل کو ایک دن چھوڑ کر دہرائیں آپ کے چہرے کے داغ اور کیل مہاسے دور ہوجائیں گے۔
اگر آپ کی جلد خشک اور رف ہے تو لیموں کے رس کے ساتھ اتنی ہی مقدار میں شہد ملا لیں اور اسے اپنے چہرے، ہاتھ اور پاؤں پر لگائیں، چند دن میں اس کے حیرت انگیز نتائج آپ کے سامنے ہوں گے۔ چہرے پر تازگی اور چمک لانے کے لیے بھی لیموں کے جوس اور ناریل کے پانی کو ملا کر چہرے ہر لگائیں اور روزانہ فیس واش کی طرح اپنے چہرے کو اس سے دھو لیں۔ کوہنیوں، ایڑھیوں اور پاؤں کے انگوٹھوں پر پڑ جانے والے کالے نشان ختم کرنے کے لیے جسم کے ان حصوں پر لیموں کے چھلکے مسلیں اس سے جلد ان نشانات سے چھٹکارا مل جائے گا۔
ناخنوں کی خوبصورتی کے لیے: عام طورپر خواتین بھربھرے اور پیلے ہوتے ناخنوں سے سخت پریشان ہوتی ہیں تو جناب اس کا بہت ہی آسان حل موجود ہے۔ لیموں کے جوس میں چند قطرے کسٹرڈ آئل یا بادام کا تیل ملا دیں اس مکسچر کو 20 منٹ تک لگا رہنے دیں اور بعد میں ہلکے گرم پانی سے دھولیں۔
صحت مند بالوں کے لیے: بالوں کے گرنے اور خشکی سے اکثر خواتین پریشان رہتی ہیں اور اس کے علاج کے لیے شیمپو اور کئی طرح کے تیل استعمال کرتی ہیں لیکن توقع کے مطابق نتائج حاصل نہیں کرپاتیں۔ لیموں کے رس میں اس کا حل موجود ہے، چند قطرے لیموں کا رس ہفتے میں 3 دن اپنے بالوں پر لگائیں جس سے آپ کے بال نہ صرف چمکدار بلکہ مضبوط بھی ہو جائیں گے۔
ہونٹوں کی خوبصورتی کے لیے: لیموں پھٹے ہوئے اور سیاہ ہونٹوں کو نہ صرف نرم  بلکہ گلابی بنا دیتے ہیں، لیموں کے رس کو تھوڑی مقدار میں چینی کے ساتھ ملا کر اپنے ہونٹوں پر لگائیں تو جلد آپ کے ہونٹ نرم اور گلابی ہوجائیں گے۔

Easy To Clean Teeths And Make Them Flashy With Home Prescription....دانتوں کو صاف اور چمک دار بنانے کے آسان گھریلو نسخے

کراچی: دانتوں پر گہرے رنگ کی تہہ کو ’’پلاک‘‘ کہا جاتا ہے جو دانتوں کی خوبصورتی اور چمک کو متاثر کرتا ہے اوراسے صاف کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا لیکن اب آپ آسان گھریلو نسخوں کے ذریعے اپنے دانتوں کو صاف اور چمکدار بنا سکتے ہیں۔
میٹھا سوڈا 
اگر میٹھا سوڈا ( بیکنگ سوڈا) تھوڑا پرانا ہو تو اس سے دانت بہت اچھی طرح صاف ہوسکتے ہیں اس کے لیے برش کو تھوڑا گیلا کریں اور اس پر میٹھا سوڈا لگا کر دانتوں پر ملیں جب کہ اس میں ایک چٹکی نمک ملا کر استعمال کیا جائے تو دانت اور زیادہ چمکدار ہوسکتے ہیں۔
 سیب کا سرکہ
دانتوں کو صاف کرنے کے لیے ایک اچھا نسخہ سیب کا سرکہ بھی ہے، برش کو سرکے میں ڈبوکر گندے دانتوں پر آزمائیے اور اس کے بعد اچھی طرح کلی کرلیں کیونکہ سرکے سے دانتوں کے انیمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہٰذا اس عمل کو مکمل کرنے کےبعد آپ کو چند دنوں میں بھی حوصلہ افزا نتائج نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔
سورج مکھی کے بیج اور ورکش پھول
سورج مکھی کے پھول ، ورکش پھول یا شجرِ لائم (linden flower) بھی دانتوں کو چمکدار بنانے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں اس کے لیے 4 چمچے سورج مکھی کے پھول ، 4 چمچے ورکش پھول اور ایک لیٹر پانی لیں ان سب کو ملاکر دھیمی آنچ پر آدھے گھنٹے تک پکائیں اور ہر کھانے کے بعد اس سے دانت برش کریں اور پھر دیکھیں کہ چند دنوں میں آپ کے دانت کتنے صاف ہوجاتے ہیں۔

Easy Ways To Manage / Control Depression.....ڈپریشن پرقابو پانے کے آسان طریقے

ڈپریشن ایک خطرناک ذہنی کیفیت ہے جس میں ذہنی اور جسمانی خطرات دونوں ہی شامل ہیں اورعموماً یہ انسان کے دماغ پراداسی کی صورت میں حملہ آور ہوتا ہے اگر اس کا بروقت سدباب نہ کیا جائے تو یہ مجموعی طورآپ کے مزاج میں تبدیلی لا کر آپ کی زندگی کو منتشر کر کے رکھ دیتا ہے تاہم اب اس کو آسان گھریلو نسخوں کے ذریعے کافی حد تک قابو کیا جاسکتا ہے۔
دودھ شہد اور سیب کا استعمال: روزانہ ایک گلاس دودھ میں شہد ملا کراس کے ساتھ سیب کھانا آپ کے موڈ میں خوشگوار تبدیلی لاتا ہے اور آپ اس کےذریعے ڈپریشن پر کافی حد تک قابو پاسکتے ہیں۔
الائچی کا استعمال: 2 بڑی الائچی لے کرانہیں پیس کر اس کا پاوڈربنا لیں اور پھرگرم پانی کے ایک گلاس میں ملا کراس میں چینی ڈال کراس کا استعمال دن میں دو مرتبہ کریں اس کے ذریعے ڈپریشن پرقابو پایا جاسکتا ہے۔
گلاب کے پتے: اگرآپ کسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ محسوس کررہے ہیں توتازہ گلاب کے پتوں کوایک کپ ابلتے ہوئے پانی میں ڈالیں اوراس میں چینی ملا کرپی لیں آپ کو ڈپریشن سے چھٹکارا مل جائے گا۔

Steam..Useful For Diseases As Well As Beauty.....بھاپ ۔ ۔ ۔ بیماریوں سے نجات کے ساتھ ساتھ حُسن کے لیے بھی مفید

بھاپ کے ذریعے نہ صرف مختلف بیماریوں سے نجات حاصل کی جاتی ہے، بلکہ یہ طریقہ کار چہرے کی تازگی، نکھار اور قدرتی کشش کو برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

زمانہ قدیم میں یونان اور روم کی خواتین اپنی خوب صورتی کو برقرار رکھنے کے لیے باقاعدگی سے پورے جسم پر بھاپ لیا کرتی تھیں۔ یہ قدرتی خوب صورتی قائم رکھنے کا ایک انتہائی سستا طریقہ ہے۔ اس کے لیے پارلر کو بھاری فیس دینے کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ یہ عمل گھر میں صرف ایک پیالے اور تولیے کی مدد سے بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ اس سے چہرے کے بند مسام کھل جاتے ہیں۔ ان میں موجود سفید اور سیاہ کیل نرم ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی گرد وغبار اور دھول مٹی کا بھی صفایا ہو جاتا ہے۔
بھاپ لینے کے عمل سے چہرے پر موجود داغ دھبے بھی فوری طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ بھاپ کا عمل جلد کی تمام اقسام کے لیے موزوں خیال کیا جاتا ہے۔ ہفتے میں ایک بار بھاپ لینا بھی کافی سمجھا جاتا ہے، البتہ چکنی جلد والی خواتین اس عمل کو ہفتے میں دو بار بھی کر سکتی ہیں۔ فیشل اسٹیم کے ذریعے جلد کے مساموں کی صفائی ہوتی ہے۔ چہرے کی یہ صفائی عام طور پر نارمل فیس واش یا کلینزنگ کے ذریعے ممکن نہیں ہو پاتی۔ اس لیے ماہرین بیوٹی فیشل کے ہفتے واری پروگرام کے ترجیح دیتے ہیں۔ چہرے پر انوکھی چمک اور تازگی کا احسا س ہونے لگتا ہے۔

بھاپ لینے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے آپ اپنے بالوں کو اچھی طر ح باندھ لیں۔ اس کے بعد کسی اچھے کلینزر سے چہرے کا مساج کریں۔ یاد رکھیں کہ مساج کے دوران آپ کی انگلیاں چہرے پر دائرے کے انداز میں حرکت کرنی چاہئیں۔ چہرے کی جلد سے گندگی اور گرد وغبار کی صفائی کر لیں، تو زیادہ اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔

مساج کے بعد ایک پیالے میں پانی اُبال لیں۔ چہرے کی بھاپ کے لیے پانی کا درجہ حرارت 110 ڈگری بہترین خیال کیا جاتا ہے۔

اس پانی میں اپنی اسکن ٹون کے مطابق ہربل اشیا بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تلسی کے پتے، نیم، پودینہ یا لیموں کے پتے وغیرہ۔ اس کے علاوہ اپنے پسندیدہ تیل کے چند قطرے بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

چہرے کا مساج کم از کم دس سے پندرہ منٹ تک جاری رکھیں۔

اب ابلتے ہوئے پانی کو کسی دوسرے پیالے میں ڈالیں اور ایک آرام دہ یا اونچی میز پر رکھ دیں۔ ایک موٹا اور بڑا تو لیہ لے کر اپنے سر اور چہرے کو اس پیالے کے اوپرذرا فاصلہ سے رکھ کر ڈھک لیں۔

کم از کم دس سے پندرہ منٹ تک بھاپ آپ کے چہرے تک پہنچنی چاہیے۔ اس دوران اگر آپ کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہو یا آپ خود کو غیر آرام دہ محسوس کر رہی ہوں، تو ہر تھوڑی دیر کے بعد چہرے سے تولیہ ہٹا کر سانس لے سکتی ہیں۔ اس سے بھاپ لینے کا عمل متا ثر نہیں ہو گا۔

 پندرہ منٹ کے بعد اسٹیم لینے کے عمل کو ترک کر دیں اور چہرے پر کوئی اچھا فیس پیک ماسک لگالیں۔ اگر آپ کے پاس فیس پیک لگانے کا ٹائم نہیں ہے، تو آپ اس کے بہ جائے صرف آئس کیوبز سے اپنے چہرے کا ہلکے ہلکے مساج کریں۔ اس سے جلد کا درجہ حرارت معمول پر آجائے گا۔
مہینے میں ایک سے دو بار بھی بھاپ لینا ضروری ہے، لیکن اس کا دورانیہ 10سے 15 منٹ سے ذیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
اسٹیم کی زیادتی چہرے کو شدید نقصان دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف جلد کی قدرتی ٹون تباہ ہو سکتی ہے، بلکہ چہرے پر قبل از وقت جھریاں بھی پڑ نے کا خد شہ رہتا ہے۔
بھاپ لیتے ہوئے اپنی جلد کی خصوصیات کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ دانوں اور ایکنی والی جلد کی حامل خواتین کو اسٹیم لینے میں احتیاط برتنی چاہیے، کیوں کہ گرمیوں کے موسم میں ایسی جلد کو خاصی مشکلات کا سا مناہوتا ہے، ایسی جلد کے لیے گھر میں اسٹیم کا عمل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقے کو اپنایا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کو ہفتے میں ایک بار استعمال کریں، لیکن اگر چہرے پر دانے بہت زیادہ ہوں تو پھر ایک ہفتے میں دو بار بھی یہ اسٹیم لی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ایک لیٹر سادہ پانی کو کھلے برتن میں ابال لیں۔ اب اس میں ایک چائے کا چمچا ہلدی، تین سے چار ٹکڑے دار چینی اور ایک کھانے کا چمچا گرین ٹی کے پتے شامل کر لیں اور چولھا بند کر دیں۔ اب اس پانی سے چہرے پر بھاپ لیں۔

گرین ٹی کے پتے جلد کو تازہ کر دیں گے۔ دھوپ کی تمازت سے جھلسی ہوئی جلد پر اس کے ذریعے سے نکھا ر پیدا ہوگا۔ ہلدی میں قدرتی طور پر موجود سلفر ہماری جلد کو ہر قسم کے انفیکشن سے دور کرتی ہے، جس سے چہرے پر موجود دانے ختم ہونے میں مدد ملتی ہے، جب کہ دار چینی سے جلد کی الرجی دور ہوتی ہے۔

خشک جلد کے لیے بھاپ کے پانی میں Red Clover، یاسمین کے پھول یا چند قطرے لیونڈر آئل شامل کر لیں اور اس پانی سے کم از کم آٹھ سے دس منٹ تک بھاپ لیں۔ یہ پانی ایک اچھا موئسچرائزر بن جائے گا اور جلد نرم اور ہم وار ہو جائے گی۔

چکنی جلد والی خواتین اسٹیم لینے کے پانی میں لیموں کے چند قطرے، گرین ٹی کے چند پتے، باسل یا پھر روزمیری پھول کے چند پتے شامل کر کے پھر بھاپ لیں۔

حساس جلد کی حامل خواتین اسٹیم لیتے وقت پیالے سے چہرے تک کا فاصلہ عام طریقہ سے زیادہ ہی رکھیں تو بہتر ہوگا اور دو سے تین منٹ سے زیادہ بھاپ نہ لیں۔ حساس جلد کے لیے بھاپ لینے والی خواتین اس پانی میں عرق گلاب، گرین ٹی کے پتے یا ایسینشل آئل کے قطرے شامل کر سکتی ہیں۔

The Easiest Way To Get Rid of Snoring ...... خراٹوں سے نجات پانے کا آسان طریقہ

لندن: رات کے سناٹے میں گونجتے خراٹے ہر ایک کو برے لگتے ہیں جب کہ مغرب میں خراٹے شوہر اور بیوی کے درمیان علیحدگی کی وجہ بن جاتی ہیں۔

امریکی تحقیقی مقالے کے مطابق زبان اور حلق کی چند آسان ورزشوں سے رات کے وقت ہولناک خرخراہٹ سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ امریکی جریدے کے مطابق خراٹوں کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں اور ماہرین کی تجویز کردہ ورزشوں سے خراٹوں پر بہت حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

ماہرین نے اس کے لیے 20 سے 65 برس تک کے 39 افراد کی دن میں 3 مرتبہ خاص طرح سے ناک کو صاف کرایا اور دوسرے گروپ کو بھی یہ ورزشیں کرائی گئیں جب خراٹے لینے والوں کو یہ مشقیں کرائی گئیں تو ان کی 36 سے 59 فیصد تعداد کے برابر افراد کی خراٹیں کم ہوگئیں اور مجموعی طورپربہتری دیکھی گئی ۔

ماہرین کے مطابق ہر مشق کو اگر بہتر انداز میں صرف 2 منٹ کیا جائے اور ناک کو بھی بہتر انداز میں صاف کیا جائے تو خراٹوں سے کافی حد تک نجات پائی جاسکتی ہے۔

مشق نمبر ایک

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/127.jpg

زبان کی نوک تالو سے لگائیں اور نوک سے تالو کو رگڑتے ہوئے پیچھے تک لے جائیں۔

مشق نمبر دو

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/220.jpg

اپنی زبان کو تالو سے لگا کر چپکائیں  اور پوری زبان کو تالو سے لگائے رکھیں۔

مشق نمبر تین

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/310.jpg

اب زبان کو تصویر کے تحت نیچے کی جانب اس طرح چپکائیں کہ اس کی نوک اگلے دانتوں کو دبائے اور زبان کا پچھلا حصہ بھی نیچے لگا رہے۔

مشق نمبر چار

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/49.jpg

اب انگریزی لفظ A ادا کرتے ہوئے حلق کے کا پچھلا اوپری حصہ اس طرح اٹھائیں کہ حلق کے درمیان لٹکا ’ قوا‘ بھی اُٹھ جائے۔

واضح رہے کہ ماہرین کی جانب سے یہ ورزشیں دنیا بھرمیں ایسے افراد کو بھی کرائی جاتی ہیں جنہیں نگلنے اور بولنے میں دقت پیش آتی ہے۔

Miracle Cure for Snoring:
Take a cup of warm milk and mix in a tsp of Turmeric powder. Drink it before bed.
Actually having this once keeps snore free for up to a week 

Ten Foods To Enhance Mental Abilities..... ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے والی دس غذائیں

آئیے جانتے ہیں 10 ایسی غذاوں کے بارے میں جن کے استعمال سے یاداشت میں بہتری لائی جاسکتی ہے،فوٹو فائل
ہم دن بھر جو کچھ کھاتے اور پیتے ہیں وہ خون میں شامل ہو کر ناصرف ہمیں توانائی فراہم کرتا ہے بلکہ ہماری غذا بلاواسطہ یا بالواسطہ دماغی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق چند غذاؤں کے باقاعدہ استعمال سے انسانی ذہنی کارکردگی میں 20 فیصد اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں 10 ایسی غذاوں کے بارے میں جن کے استعمال سے یاداشت میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
بیری:
ذہنی دباؤ اورغصے کے باعث انسان کا دماغ اپنی عمر سے پہلے ہی سٹھیانا شروع ہوجاتا ہے، بیریوں میں موجود قدرتی اجزا تکسیدی دباؤ کے خلاف کارگر ثابت ہوتے ہیں اوراشتعالی کیفیت کے سدباب کے طورپرکام کرتے ہیں۔  بیریوں کا اخروٹ اور ناشپاتیوں کے ساتھ استعمال، انسانی دماغ کے خلیوں کو جوان رکھتا ہے،  جس سے دماغی کارکردگی اور سوچنے کی صلاحیت میں بہتری آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
کیلا:
دماغ کی بہترین کارکردگی کے لیے خون میں گلوکوز کی مقدار کم از کم 25 گرام ہونا ضروری ہے اور کیلا ایسا پھل ہے جس میں گلوکوز کی مطلوبہ مقدار موجود ہوتی ہے جو دماغی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
انڈے: 
وٹامن بی یادداشت کو بہتر بنانے اور دماغ کی جانب سے ردعمل کے وقت کو بہتر بناتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انڈے وٹامن بی سے بھرپور ہوتے ہیں۔
دہی
دہی انسانی جسم کے لئے کیلشیم، حمیات اور وٹامنز فراہم کرنے کا ایک آسان اور بہترین طریقہ ہے- ان اجزا کی بدولت دماغی صلاحیتوں کو فراغ ملتا ہے۔
مچھلی:
مچھلی اومیگا تھری ، پروٹین ، فولاد اور وٹامن بی کا خزانہ ہوتی ہے جودماغ کے دہرانے کےعمل کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ  استدلال کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔
بینگن:
بینگن کا استعمال دماغ کے خلیوں اور پیغام رساں مالیکیولز کے درمیان رابطے کو بہتر بناتا ہے جس کےدماغ پر حیرت انگیز طور پرخوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔
سبز چائے:
سبز چائے کا استعمال انسان کے اعصابی طنام کو بہتر بنانے کا سبب بنتا ہے۔
کچی گاجر
کچی گاجروں کواپنی روز مرہ خوراک کا باقاعدہ حصہ بنانے سے خون میں شکر کی مقدار متوازن رہتی ہے جو آپ کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔
کافی:
کافی میں موجو د کیفین کا استعمال یادداشت اور آنکھوں پر اچھا اثرڈالتا ہے خصوصا ان لوگوں کے لیے جو گھنٹوں کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔
چاکلیٹ:
ڈارک چاکلیٹ کا استعمال ذہنی ارتکاز کو بہتر بناتا ہے، جب کہ دودھیا چاکلیٹ تصویری یاداشت، بولنے کی صلاحیت ، اور ردعمل میں بہتری لاتی ہے ۔

Thursday, 14 May 2015

Don't Take Green Tea Right After Meal ...صحت مند رہنا ہے تو کھانے کے فوری بعد سبز چائے نہ پیئیں

کھانے کے فوری بعد سبز چائے پینا براہ راست منفی اثرات کا باعث ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل
ممبئی: سبز چائے کا باقاعدہ استعمال ہمیں کئی بیماریوں سے بچاتا ہے لیکن کبھی کبھار اس کے مضر اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں خاص طور پر کھانے کے فوری بعد سبز چائے پینا کافی بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔
بھارتی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق سبز چائے میں بڑی مقدار میں ایسے قدرتی اجزاء پائے جاتے ہیں جن سے جسم میں اضافی چربی بننا کم ہوجاتی ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال معدے اور جگر کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ خاص طور پر کھانے کے فوری بعد سبز چائے پینا براہ راست منفی اثرات کا باعث بنتا ہے۔
سائسندانوں کا کہنا ہے کہ معدے میں پیدا ہونے والا گیسٹرک جوس نظام انہضام میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن سبز چائے میں موجود قدرتی اجزاء اسے کمزور کردیتے ہیں جس کی وجہ سے کھانا صحیح طور پر ہضم نہیں ہوپاتا جو معدے اور جگر کی کئی بیماریوں کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔

Friday, 8 May 2015

Tested Treatment for Pain and Inflammation in the Gums....مسوڑھوں میں درد اور سوزش کیلئے آزمودہ علاج

مسوڑھے میں درد، سرخی اور سوزش جیسے مسائل کو کبھی بھی کم اہمیت یا نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ یہ بیماریاں انسان کی مجموعی صحت کو بے حد متاثر کر سکتی ہیں، لیکن ڈاکٹر کے پاس جانے سے قبل ایک بار درج ذیل گھریلو علاج کو ضرور آزمائیں کیوں کہ ماہرین کے مطابق گھریلو ٹوٹکوں کے ذریعے مسوڑھوں کے تمام امراض کا علاج ممکن ہے۔ یہ ٹوٹکے نہ صرف آپ کو مسوڑھوں بلکہ منہ کے دیگر امراض سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
ذہنی دبائو: اکیڈمی آف جنرل ڈینٹسٹری کے مطابق ذہنی دباؤ اور دانتوں کی صحت میں ایک ربط یا تعلق ہے۔ ذہنی دباؤ کے شکار افراد میں قوت مدافعت کا نظام کمزور ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایسے بیکٹریا سے لڑنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں جو مسوڑھوں کے امراض کو جنم دیتے ہیں۔ لہذا مسوڑھوں کے امراض سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ذہنی دبائو کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔
(بحری) نمک والا پانی: ایک کپ گرم پانی میں نمک کو حل کرکے تقریباً 30 سیکنڈز تک ایک گھونٹ منہ میں رکھنے کے بعد تھوک دیں۔ اس مشق کو دن میں دومرتبہ کئی بار دھرانے سے آپ مسوڑھوں کی سوزش سمیت دیگر انفیکشنز سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
چائے کا بیگ (ٹی بیگ) : گرم پانی میں ٹی بیگ ڈالیں اور تھوڑی دیر بعد اسے نکال کر ٹھنڈا کر لیں۔ بعدازاں اس ٹی بیگ کو 5منٹ تک مسوڑھوں کے متاثرہ حصہ پر رکھ لیں، تو آپ ٹی بیگ میں موجود ٹینک ایسڈ سے فوری آرام محسوس کریں گے۔
شہد کی مالش: شہد میں قدرتی طور پر اینٹی بیکٹریل صلاحیت موجود ہوتی ہے، لہذا برش کرنے کے بعد شہد کو متاثرہ جگہ پر لگا کر ہلکی سی مالش کرنے سے انفیکشن کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
کروندے (کرین بیری) کا جوس: کروندے کا جوس بیکٹریا کو آپ کے دانتوں سے چمٹنے سے باز رکھتا ہے، لہذا روزانہ تقریباً 4 اونس کروندے کا جوس ضرور پیئں۔
لیموں کی پیسٹ: لیموں کے رس میں نمک ملا کر ایک پیسٹ بنا لیں اور پھر اسے اپنے دانتوں پر لگائیں۔ 5 منٹ کے بعد نیم گرم پانی سے غراروں کے ذریعے منہ صاف کر لیں تو آپ کو مسوڑھوں کے درد سمیت دیگر مسائل میں واضح آرام محسوس ہوگا۔
وٹامن سی سے بھرپور غذائیں: صرف لیموں ہی نہیں بلکہ وٹامن سی سے بھرپور دیگر غذائیں جیسے مالٹا، انگور، پپیا اور سٹرابیری بھی دانتوں کے لئے بہت اچھے تصور کئے جاتے ہیں۔ وٹامن سی ایک اینٹی آکسیڈینٹ ہے جو آپ کو مسوڑھوں کے مختلف مسائل سے پیدا ہونے والے امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔
وٹامن ڈی: مسوڑھے میں سوزش کی صورت میں وٹامن ڈی کا استعمال زیادہ کریں، یعنی ایسی غذائیں کھائیں جن میں اس وٹامن کی کثیر تعداد پائی جاتی ہو، کیوں کہ یہ نہ صرف پھولے ہوئے مسوڑھے میں آرام دے گا بلکہ آئندہ سے اس بیماری سے حفاظت بھی کرے گا۔
سوڈا سے دانتوں کی صفائی: سوڈا میں موجود ایسڈ کسی بھی دوائی سے زیادہ مسوڑھوں کو مختلف امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ سوڈا کی تھوڑی سی مقدار کو نیم گرم پانی میں مکس کرکے اسے دانتوں پر لگائیں۔
تمباکونوشی سے چھٹکارا: تمباکو جسم میں مختلف انفیکشنزسے لڑنے کی صلاحیت کو کم کر دیتا، اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں کہ سگریٹ نوشی کرنے والے زیادہ تر افراد مسوڑھوں کے مسائل کا شکار بن جاتے ہیں، لہذا اگر مسوڑھوں کو مرتے دم تک تندرست رکھنا چاہتے ہیں تو تمباکو سے دور رہیں۔

Ladies High Heel Sandals Causes Back Terrible Pain...اونچی ہیل والی سینڈل خواتین میں کمر کی خوفناک تکلیف کا باعث بنتی ہے

اکثر خواتین سمجھتی ہیں کہ اونچی ہیل والی سینڈل عورت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے اسی لیے تقریبات سے لے کر کیٹ واک تک خواتین اونچی ہیل والی سینڈل یا سینڈل پہننا پسند کرتی ہیں لیکن انہیں شاید یہ خبرنہیں کہ اونچی ہیل پاؤں اور کمر سمیت ایڑھی میں خطرناک تکلیف کی وجہ بنتی ہے۔
کمر کی تکلیف اور اسپائنل کارڈ کو نقصان: اونچی ہیل کا مسلسل استعمال کمر کی اسپائنل کارڈ کو شدید نقصان پہنچا تا ہے اسی لیے ورکنگ ویمن میں کمر کی تکلیف عام ہوتی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمر کی تکلیف اکثر مستقل اونچی ہیل استعمال کرنے والی خواتین میں سامنے آتی ہے کیونکہ اونچی ہیل کا استعمال جسم کو غیر متوازن کردیتا ہے اور یہی تمام قسم کی کمر کی تکلیف کا نقطہ آغاز ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مستقل طورپر اونچی ہیل والی سینڈل سے جسم کی ترتیب خراب ہوجاتی ہے جس سے ریڈھ کی ہڈی غیر معمولی طور پر مڑ جاتی ہے جو اسپائن کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ہیمسٹرنگ انجری: اونچی ہیل والی سینڈل پہننے والی خواتین کی ہڈیاں سخت اور اکڑن کی کیفیت سے دو چار ہوجاتی ہیں جو’’لوئر لمبو سیکرال اسپائن‘‘ اور ’’پیلوس‘‘ سے آنے والے ہیمسٹرنگ اور ہپ کے پٹھوں کی خرابی کا باعث بن جاتا ہے جسے ہائپر لوڈوسس اور ہائپر لورڈوسس کہا جاتا ہے۔ بیک بون میں یہ خرابی انٹر ورٹیبرال ڈسک پر دباؤ کو بڑھا دیتی ہے جس سے کمر اور پیلوس کے جوڑ بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر یہ بیماری زیادہ دیر تک رہے تو خواتین نوجوانی میں ہی ہڈیوں کی لچک سے محروم ہوکر معذوری کا شکار ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق اونچی ہیل کمر کے نچلے حصے کی تکلیف کے ساتھ ساتھ  سلپڈ ڈسک اور درد عرق النسا کا بھی باعث بنتی ہے اور اکثر خواتین سلپڈ ڈسک کا شکار رہتی ہیں کیوں کہ عورت کے جسم کی ساخت میں ذرا سا بھی زیادہ وزن براہ راست اس کی کمر کو متاثر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کمر کی تکلیف ایک دفعہ ہوجائے تو یہ ختم ہونے میں 3 سے 4 ہفتے لیتی ہے جس میں مریض کو مکمل بیڈ ریسٹ کرنا ضروری ہوتا ہے اور ساتھ ہی اس میں کریم، جیل اور پین کلر استعمال کی جاتی ہیں جب کہ اگر کمر میں تکلیف کے ساتھ سوجن بھی ہوتو متاثرہ جگہ پر آئس بکس لگایا جاسکتا ہے جو شریانوں میں خون کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے جس سے ٹشوزکو آکسیجن ملتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جو خواتین حمل کے دوران اونچی ہیل کا استعمال کرتی ہیں ان کے لیے یہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ حمل کے دوران خواتین کا وزن مسلسل بڑھتا ہے جس سے سینٹر آف گریویٹی تبدیل ہوتا رہتا ہے اوراس سے کمرپر دباؤبڑھتا ہے۔

Late Night Dinner Can Cause Chest Cancer .....خواتین کا رات کو دیرسے کھانا سینے کے کینسرکا سبب بن سکتا ہے

فلاڈیلفیا: انسان بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث اپنے کھانے پینے کے اوقات ہی بھول بیٹھا ہے اور اسے جب بھی وقت ملتا ہے اس وقت کھانے کوترجیح دیتا ہے جس کے بے شمار نقصانات ہیں لیکن خاص کر خواتین کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ بے وقت کا کھانا ان کے لیے کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رات کو دیر سے کھانے کی عادت خواتین میں سینے کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

امریکن ایسوسی ایشن فار کینسر ریسرچ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق رات کا کھانا جلدی کھانے اور رات میں اسنیکس کھانے کی عادت چھوڑ دینے سے فشار خون اور شوگر لیول کم ہوتا ہے جس سے ذیابیطس جیسی بیماری پیدا نہیں ہوتی تاہم اس کے برعکس رات کا کھانا دیر سے کھانے سے کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے 2 ہزار خواتین پر تحقیق کے بعد کہا گیا ہے کہ رات کے کھانے اور اگلی صبح کے ناشتے میں ہر 3 گھنٹے اضافے کے باعث خون میں گلوکوز کا لیول 4 فیصد کم ہوجاتا ہے جب کہ دن کے دیگر اوقات میں خواتین کتنا بھی کھائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ محقیقن کا کہنا ہے کہ گلوکوز کینسر سیل میں تیزی سے اضافے کا باعث بنتے ہیں جب کہ گلوکوز کو ختم کرنے والی انسولین اگرچہ وقتی شوگر لیول کو کنٹرول کرتی ہے تاہم سائیڈ انفکیشن کے طور پر یہ سینے کے کینسر کے خدشے کو بڑھاتی ہے۔

  • تحقیق کے بانی امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر کے مطابق اس تحقیق میں ان خواتین کے لیے واضح پیغام ہے جو کھانے کے بعد بھی رات کو سونے سے قبل اسنیکس وغیرہ کھاتی ہیں کیونکہ رات کے کھانے اور اگلی صبح کے ناشتے کے وقت میں جتنا زیادہ فاصلہ ہوگا اتنا ہی سینے کے کینسر کا خدشہ کم ہوتا ہے جب کہ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک سادہ غذائی پلان ہے جسے اپنا کر خواتین ایک مہلک بیماری سے بچ سکتی ہیں۔

Thursday, 7 May 2015

Life Saving Drugs Might Be Dangerous For Life ....جان بچانے والی دوا سے جان جانے کا خطرہ

فرینکفرٹ: یوں تو جان بچانے والی ادویات بہت سی ہوتی ہیں لیکن دل کے امراض سے بچانے والی ایک دوا سرفہرست ہے جس سے عارضہ قلب میں مبتلا افراد کی اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دل کے دورے سے بچانے والی مشہور دوا Digoxin کے استعمال سے موت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ دوا ایسے مریضوں کو استعمال کروائی جاتی ہے جن کے دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی یا کمی پائی گئی ہولیکن کچھ  متنازعہ ثبوتوں کے ساتھ  یہ نئی تحقیق سامنے آئی ہے کہ اس دوا کے استعمال سے ایسے مریضوں کی شرح اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جرمنی کی جے ڈبلیو، گویتھ یونی ورسٹی میں ہونے ہونے والی تحقیق ایک مرحلہ واراسٹڈی کا حصہ تھی  جس میں  1993 سے 2015 کے درمیان ہونے والی ایسی اموات کی نشاندہی کی گئی تھی، خصوصاً ان مریضوں میں جن میں کل 235,047 افراد شامل تھے  جنھیں دل کی دھڑکن میں کمزوری اور بے قاعدگی کی شکایت تھی۔ ان میں سے 21 فیصد کو Digoxin کا استعمال کروایا گیا تھا۔ یہ دوا Foxglove پودے سے کشید کی جاتی ہے اوریہ دل کی دھڑکن کو مضبوط اور باقاعدہ رکھنے میں مددگار تصور کی جاتی تھی۔

Four Simple Recipes For Pain....درد اورتکلیف سے فوری نجات پانے کے 4 آسان نسخے

نیویارک: بعض اوقات جب انسان شدید تکلیف میں ہو تو دوائیں کھانے کے باوجود اس کے درد کی شدت کم نہیں ہوتی اور جوں جوں دوا کی درد بڑھتا رہا کے مصداق تکلیف بڑھتی رہتی ہے لیکن محققین کی جانب سے 4 ایسے آسان طریقے سامنے لائے گئے ہیں جن پر عمل کرکے آپ فوری شدید تکلیف سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔
انگلی پر انگلی رکھنا: اچانک دروازہ بند ہوا اور آپ کی انگلی دروازے میں آجائے تو شدید تکلیف سے آپ کراہ اٹھتے ہیں اورکافی دیر تک درد سے پورا جسم تڑپ اٹھتا ہے تو جناب اب آپ پریشان نہ ہوں اور درد کی شدت سے زبان دانتوں کے نیچے دبانے کی بجائے سکون سے بیٹھ جائیں اور اپنی ایک انگلی کو کراسنگ کے انداز میں دوسری انگلی پر رکھ کر دبائیں، حیرت انگیز طور پر آپ کا درد غائب ہوجائے گا۔
اس تحقیق میں شامل ایک محقق کا کہنا ہے کہ اس عمل سے دماغ دھوکہ کھا جائے گا کیونکہ دماغ نروز پاتھ وے سے  گرم، ٹھنڈا اور درد محسوس کرتا ہے اورجب انگلیوں کو کراس کیا جاتا ہے تو درد کم ہونے لگتا ہے اس جسم کا انداز تبدیل کرنے سے دماغ کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے جس سے درد میں کمی ہوجاتی ہے۔
پسندیدہ آواز سن کر: کوئی گانے یا کسی اورآواز جس سے آپ محبت کرتے ہیں تو اسے سننے سے درد کم ہوتا ہے ۔ طبی جریدے پلوس ون میں شائع نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جب کچھ رضا کاروں کی جلد کو شدید حرارت دی گئی تو وہ تکلیف سے کراہ اٹھے لیکن اس دوران کچھ لوگوں کو ان کا پسندیدہ گانا یا آواز سنائی تو انہوں نے درد میں واضح کمی محسوس کی اور جو ایسے ہی بیٹھے رہے وہ زیادہ دیر تک تکلیف میں مبتلا رہے۔
سر میں درد ہو تو اسے انگلیوں سے دبائیں: اگر سر میں شدید درد ہو تو کوئی پین کلرکھانے کی بجائے ایکو پریشریعنی انگلیوں سے سر کو دبانے  کے طریقے سے بآسانی درد سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ 2010 میں کی گئی ایک تحقیق میں جن لوگوں نے ایکو پریشر کا طریقہ اختیار کیا انہیں درد میں واضح کمی ہوئی جب کہ درد کی گولیاں کھانے والوں کو کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ اس طریقہ کے مطابق جب بھی آپ درد محسوس کریں اپنے دونوں ہاتھ کے انگھوٹوں سے سرکو درمیان سے دباتے ہوئے سر کی دونوں جانب گھمائیں یہاں تک کہ جب تک آپ کو درد سے نجات نہ مل جائے۔
پسندیدہ کھانے کا تصور کرنا: ایک دلچسپ تحقیق کے مطابق جب خواتین حیض کے دوران شدید درد محسوس کریں تو وہ اپنی پسندیدہ چاکلیٹ یا اپنی ماں کے ہاتھ کے پکے ہوئے مزے دار کھانے کا تصور کریں اس سے درد میں بہت فرق محسوس ہوگا۔ 2008 میں فوڈ ویجیو لائزیشن پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پسندیدہ کھانے کا تصور درد میں واضح کمی لاتا ہے جب کہ سیر کرنے یا کوئی دلکش منظر دیکھنے جیسی پریکٹس سے اس میں اتنی کمی نہیں آتی۔

Muscle Weakness Causes Headache....پٹھوں کی کمزوری سر درد کا باعث بنتی ہے، تحقیق

کوپن ہیگن: پریشانی اور ذہنی دباؤ میں اکثرلوگ سر درد کا شکار ہوجاتے ہیں جو بعض اوقات ہائی بلڈ پریشر اور برین ہیمرج کا باعث بن جاتا ہے اسی حوالے سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پریشانی میں سر میں اٹھنے والا سردرد دراصل کندھوں اور گردن کے پٹھوں میں کمزوری کے باعث  ہوتا ہے۔
ڈنمارک میں کی جانے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ پریشانی کے باعث اکثر سر درد کا شکار ہوتے ہیں ان میں سے 26 فیصد افراد گردن اور پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے سر میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے بانی ڈنمارک ہیڈیک سینٹر کے فزیو تھراپسٹ بی جارن ایچ میڈسن کا کہنا ہے کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس پر مزید تحقیق کی جائے کہ سر درد کا پٹھوں اورہڈیوں کے اثرات سے کتنا گہرا تعلق ہے تاہم پٹھوں کو مضبوط کرنے والی ٹریننگ سے سر درد سے نجات پائی جاسکتی ہے۔
گزشتہ تحقیق میں کہا گیا تھا کہ پٹھوں کی کمزوری اور پریشانی میں ہونے والے سر درد سے گہرا تعلق ہے اور اس مطالعے نے اس میں مزید روشنی ڈالی ہے۔ تحقیق میں شامل ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پریشانی میں ہونے والے سردرد میں مریض محسوس کرتا ہے کہ کوئی ربر بینڈ زور سے اس کے سر کے گرد باندھ دیا گیا ہے اور سر میں ہروقت ہلکا درد محسوس ہوتا رہتا ہے تاہم سر درد کی دو اقسام (کلسٹر اور مائگرین) کے دوران درد زیادہ شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ کلسٹر سردرد عام طور پر شدید نزلہ یعنی سانس اور ناک کے بہنے سے ہوتا ہے جب کہ مائگرین سر میں تیزی سے ارتعاش اور الٹیوں کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے باعث سر میں شدید درد اٹھتا ہے۔
تحقیق کے دوران 60 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جنہیں پریشانی کے باعث سردرد ہوتا تھا اور30 صحت مند لوگوں کو شامل تحقیق کیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ان 30 صحت مند افراد میں سے صرف 3 افراد کو مائیگرینز کا سردرد ہوا جب کہ اس دوران جب انہوں نے سر پیچھے کی جانب جھکایا تو گردن کے ایکسٹینسر پٹھوں اور جب آگے کی جانب جھکایا تو ’نیک فلیکسر‘ پٹھوں کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 26 فیصد صحت مند افراد میں پٹھے پریشانی میں سر درد رکھنے والے افراد سے زیادہ مضبوط پائے گئے۔
میڈسن کاکہنا ہے کہ لیپ ٹاپ، کمپیوٹراور ٹیبلٹ پر زیادہ دیر بیٹھنے سے بھی گردن اور کندھے کے پٹھوں پر اثر پڑتا ہے جس سے سر میں درد بھی بڑھ جاتا ہے تاہم اسے کندھوں کے پٹھوں کو مضبوط کرنے والی مشقوں سے اس پر قابوپایا جاسکتا ہے۔

Natural Diet to Control Diabetes....وہ قدرتی غذائیں جو ذیابطیس کے مرض پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں

واشنگٹن: ایک جدید طبی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا  ہے کہ کچھ مخصوص قدرتی غذاؤں کا استعمال ذیا بطیس پر قابو  پایا جا سکتا ہے  یہ طریقہ سستا اور قدرتی ہے۔
امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اپنی روزمرہ کے معمولات میں کچھ مثبت تبدیلیاں لا کر ہی آپ ذیابطیس سے ہوئے نقصان کی تلافی کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں ، آپ بلا خوف و خطرکچھ بھی کھانے کی آزادی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اور ایک صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کرنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل غذائیں اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔
ریشے دار غذائیں۔  خون میں گلوکوز کے جذب ہونے کے عمل کو سست کرتی ہیں ، روزانہ بیج ،سبزیاں اور ناشپاتی کا استعمال فائدے مند ہو سکتا ہے ۔
کرومیم نامی دھاتی عنصر جن غذاوں میں  مثلا بروکولی [شاخ گوبھی ] ،پنیر ، ہری پھلیاں ، یا لوبیا ان غذاوں کا استعمال بھی خون میں گلوکوز کی مقدار کو متوازن رکھتا ہے جب کہ مذکورہ غذاؤں میں کرومیم کی ایک بڑی مقدار شاخ گوبھی میں موجود ہوتی ہے۔
  سمندری یا دریائی مچھلی: اس میں موجود امیگا تھری بھی  کسی حد تک  خون میں بڑھے ہوئے گلوکوز کے اثرات پر قابو پانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔
ناریل یا سرخ پام آئل: Medium-Chain Fatty Acid یا MCFA جن غذاوں کا جز ہوں مثلا ناریل یا سرخ پام آئل تو ایسی خوراک بھی خون مِں شکر کی مقدار کو کم رکھنے میں کارگر ثابت ہوتی ہیں اور شکر کے متبادل کے طور پر خوراک کے طور پر استعمال میں لاکر انسانی جسم کی شکر کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔