Friday, 24 July 2015

A few simple domestic prescription to control Blood Pressure.... بلڈ پریشر قابو میں رکھنے کے چند آسان گھریلو نسخے

 بلند فشارِخون یا بلڈ پریشر کا مرض ایک خاموش قاتل قرار دیا جاتا ہے جس میں خون کی رگوں پر خون کا دباؤ بڑھتا ہے جس کے نتیجے میں امراضِ قلب سمیت  فالج اور دیگر جان لیوا امراض جنم لیتے ہیں۔
طبی ماہرین ہائی بلڈ پریشر کو قابو کرنے کے لیے بعض گھریلواشیا تجویزکرتے ہیں جو قدرتی طور پر بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہیں اور آپ کو خطرناک امراض سے بچاتی ہیں لیکن ان اشیا کے استعمال سے پہلے اپنی معالج سے رجوع ضرور کریں تاکہ آپ کسی نقصان سے بچ سکیں۔
سرخ گوشت بمقابلہ سفید گوشت:
بلڈ پریشر کے مریض سرخ گوشت مثلاً گائے اور بکرے کے گوشت سے پرہیز کرتے ہوئے مرغی اور مچھلی استعمال کریں جنہیں سفید گوشت بھی کہا جاتا ہے جب کہ ایسے افراد مرغی اور مچھلی کے ساتھ سبزی کا زیادہ استعمال رکھیں جو ان کے لیے مفید ہے۔
لہسن:
لہسن میں موجود کئی قدرتی اجزا بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتے ہیں اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کو بھی کم کرتے ہیں لہٰذا اس کا استعمال بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
 شہد اور پیاز:
ایک کپ میں پیاز کے رس میں 2 چمچ شہد ملائیں اور اسے روز کا معمول بنائیں اس عمل سے آپ اپنے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔
کڑھی پتے:
کڑھی پتوں میں کئی بیماریوں کا علاج ہے۔ ایک کپ پانی میں 4 سے 5 کڑھی پتے ابالیں اور اسے پی لیں اس سے بہتر محسوس کریں گے۔
چقندر کا رس:
چقندر کا رس بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے اس لیے سلاد وغیرہ میں بھی چقندر کا استعمال بلڈپریشر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے جب کہ چقندر خون بنانے میں بھی مدرگار ثابت ہوتا ہے۔

Thursday, 9 July 2015

وہ غذائیں جو رکھیں آپ کو خوش اور موڈ بنائیں بہتر......Foods that make you happy and improves Mood

لندن:  اگر خوشی کا تعلق دل سے ہے تو اس کا تعلق دماغ سے بھی ہوتا ہے، دماغی افعال اور بعض کیمیکل ہمارے موڈ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہمیں خوشگوار احساس دلاتے ہیں۔
بیریاں:
اسٹرابری، رسبری اور بلوبیریوں کے جادوئی فائدے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ان میں ویلپروئک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو موڈ کو بہتر بناتا ہے۔ اس میں موجود بعض فلے وینوئڈز جسمانی جلن کو کم کرتے ہیں جوڈپریشن کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔
کیلے:
کیلوں میں پوٹاشیم موجود ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ اس میں ٹریپٹوفان ہوتا ہے جو دماغی افعال کو بہتر بناتے ہیں اور موڈ کو اچھا کرتے ہیں ۔ اس میں وٹامن بی فولیٹ بھی پایا جاتا ہے جس کی کمی موڈ کو برا کرتی ہے۔
ڈارک چاکلیٹ:
ڈارک چاکلیٹ میں اینٹی آکسیڈنٹس کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے ۔ اس میں تناؤ کم کرنے والا ایک ہارمون کارٹیسول بھی پایا جاتا ہے۔
سامن مچھلی:
سامن (salmon) مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز پایاجاتا ہے جو ڈپریشن کو کم کرتا ہے۔ اس کی صحتمند چکنائیاں بالوں کو مضبوط اور چمکدار بناتی ہیں۔
ہلدٰی:
برصغیر پاک و ہند میں ہلدی کا استعمال عام ہے۔ اس میں کرکیومن نامی ایک عنصر انسانی احساس کو خوشگوار بناتا ہے۔
سبزچائے:
جاپانی ماہرین کے مطابق روزانہ تین سے چار کپ سبز چائے پینے سے مایوسی اور ڈپریشن کے آثار بڑی حد تک ختم ہوجاتے ہیں۔
سیب کھائیں اور اداسی بھگائیں:
روزانہ ایک سیب جہاں آپ کو ڈاکٹر سے دور رکھتا ہے تو وہیں توانائی اور مسرت کا احساس بھی دلاتا ہے۔ لہٰذا سیب کھایئے اور اداسی بھگائیے۔
پالک:
پوپائے کارٹون پالک کھاکر توانائی حاصل کرتا تھا لیکن اس میں موجود فولک ایسڈ یاسیت کو کم کرتا ہے اور چہرے کو بھی صاف و خوبصورت رکھتا ہے۔
پھلیاں:
امریکا میں محکمہ زراعت کی تحقیق کے مطابق پھلیوں میں موجود میگنیشیئم آپ کو خاص توانائی فراہم کرتا ہے اور آپ کے ہر احساس کو خوشگوار بناتا ہے۔
اخروٹ:
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے مطابق اخروٹ دماغ کو بہتر رکھتا ہے اور ساتھ ہی اس میں وٹامن، معدنیات اور الفالائنولینک ایسڈ ہوتے ہیں جو دماغ میں خاص کیمکل کا اخراج کرتے ہیں اور آپ پرسکون رہتے ہیں۔
نارنگی:
نارنگیوں میں موجود وٹامن سی جلد کی خشکی کو دور کرنے کے علاوہ دماغی افعال اور یادداشت کو بہتر بناتے ہیں۔ اگر دو ماہ تک ایک گلاس اورنج جوس پیا جائے تو اس سے بہت سے دماغی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

Six Simple Ways to make Teeth White and shiny like Pearls......دانت موتی کی طرح سفید اورچمکدار بنانے کے 6 آسان طریقے

لندن: کہتے ہیں ایک خوبصورت مسکراہٹ انسان کے چہرے کی خوبصورتی میں کئی گنا اضافہ کردیتی ہےاورمسکراہٹ کو دلکش بنانے میں سفید اور چمکدار دانت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں تاہم دانتوں کی صحت برقرار رکھنے کے لئے ان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کی اکثریت دانتوں کو درکار توجہ دینے میں ناکام رہتی ہے جس کی وجہ سے دانتوں کی صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں،ماہرین نے دانتوں کی صفائی کے لئے چند اہم تجاویز دی ہیں جن پر عمل کرکے دانتوں کی صحت کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
برش کرنے کا صحیح طریقہ:
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 3 میں سے ایک فرد صبح دانتوں میں برش نہیں کرتا جبکہ اکثریت غلط طریقے سے برش کرتی ہے جس کی وجہ سے منہ کی خاطر خواہ صفائی نہیں ہوپاتی۔ ماہرین کے مطابق اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کیا جانے والا برش ذیادہ پرانا نہ ہو اور ہر 3 ماہ بعد برش تبدیل کرلیا جائے جبکہ دانت صاف کرتے ہوئے برش کو اوپر نیچے رگڑنے کے بجائے 45 ڈگری کے زاویے میں سیدھا کیا جائے اور دانتوں کے تمام حصوں پر برش کیا جائے اس طرح دانتوں میں موجود بیکٹیریا کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
چیونگم زیادہ دیر چبانے سے پرہیز:
چیونگم کھانے سے منہ کا ذائقہ وقتی طور پرخوشگوار ہوجاتا ہے تاہم زیادہ دیر تک چیونگم چبانا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونگم 10 منٹ سے زیادہ چبانا ٹھیک نہیں اور ذائقہ ختم ہوجانے کے بعد اسے پھینک دینا چاہیئے کیونکہ یہ دانتوں کی صحت کے لئے بالکل بھی ٹھیک نہیں کیونکہ دانتوں کی ساخت چیزوں کو توڑنے کے لئے بنائی گئی ہے جبکہ چیونگم لچکدار ہوتی ہے اور زیادہ چبانے کی وجہ سے دانتوں میں ٹوٹ پھوٹ ہوسکتی ہے۔چیونگم چبانے کے دوران ہمارا معدہ ایک قسم کا تیزاب پیدا کرنا شروع کردیتا ہے جو کہ غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے تاہم جب غذا معدے میں نہیں جاتی تو اس کے مضر اثرات معدے کے السر کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔
اسٹرابری اور میٹھے سوڈے کا استعمال:دانتوں کو چمکدار بنانے کے لئے قدرتی طریقے سب سے بہترین اور کارآمد ہوتے ہیں،اسٹرابری اور میٹھا سوڈا اس حوالے سے بہترین نتائج کے حامل ہیں۔ماہرین نے یہاں ایک نہیات کارآمد ٹوٹکا بتایا ہے ۔ 8 عدد اسٹرابری  اور آدھا چمچ میٹھا سوڈا لے کر ان کا پیسٹ بنا لیں اور روئی کا ٹکڑا لے کر دانتوں پر اچھی طرح ملیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کے دانت چمکدار ہوجائیں گے بلکہ سگریٹ ،چائے اور کافی کی وجہ سے دانتوں پر بننے والے دھبے بھی ختم کیے جاسکتے ہیں،اسٹرابری میں پائے جانے والے خاص اجزا دانتوں کو چمکدار بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ناشتے کے بعد دانتوں کی صفائی:
لوگوں کی اکثریت صبح سویرے کچھ بھی کھانے یا پینے سے پہلے برش کرنا پسند کرتی ہے اور یہ صحت کے لئے بھی مفید ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ کھانے یا پینے کے بعد برش کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب آپ نے میٹھی چیزیں کھائیں ہوں۔اس طرح دانت نہ صرف کیڑا لگنے سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ ان کی مضبوطی بھی برقرار رہتی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ رات کو سونے سے قبل سب سے آخری کام دانتوں کی صفائی ہونا چاہیئے اور اس کے بعد کچھ بھی کھانے یا پینے سے(سوائے پانی کے) پرہیز کرنا چاہیئے ۔اس طرح رات بھر دانت بیکٹیریا لگنے سے محفوظ رہتے ہیں اور دانتوں کا انیمل یا اوپری پرت بھی محفوظ رہتی ہے۔
زبان کی صفائی:صاف اورمہکتی سانس کے لیئے زبان کا صاف ہونا انتہائی ضروری ہے جبکہ لوگوں کی اکثریت زبان کی صفائی کا خیال ہی نہیں رکھتی،زبان پر برش کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس پر بیکٹریا بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں اور انہی چھپے ہوئے بیکٹیریا کی وجہ سے منہ سے بدبو بھی آنے لگتی ہے۔ دانتوں کی صفائی کے دوران زبان پر بھی برش کرنے سے اس مسئلے سے کافی حد تک نجات پائی جاسکتی ہے جبکہ زبان کی صفائی کے  خصوصی طور پر بنایا گیا آلہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
دانتوں میں خلا ل کرنا:ماہرین دانتوں میں خلا ل کرنے کے عمل کو بھی صحت کے لئے بہترین عمل قرار دیتے ہیں اور اس سے نہ صرف دانتوں کی بہتر طریقے سے صفائی ہوجاتی ہے بلکہ اس سے حیرت انگیز طور پردل کے امراض کے بچاؤ میں بھی مدد ملتی ہے۔دانتوں میں خلال کرنے سے غذا کے پھنسے ہوئے ٹکڑے  جو کہ بیکٹیریا کی افزائش میں مددگار ثابت ہوتے ہیں نکل جاتے ہیں۔برٹش ڈینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر نائجل کارٹر کا کہنا ہے کہ خلال کرنا دانتوں کی صحت مندانہ روٹین کا ایک اہم حصہ ہے اور دانتوں کو برش کرنے سے قبل دن میں کم از کم ایک مرتبہ خلال کرنا ضروری ہے۔ تاہم دانتوں کے درمیان خلا کی صفائی کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور اس کے لیے دانتوں کے لیے خلال کرنے والا مناسب آلہ استعمال کرنا چاہیے کیونکہ کسی غیر معیاری چیز سے یا پھر تیزی سے دانتوں میں خلال کرنے سے مسوڑھوں کے عضلات کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہناہے کہ اگر ان باتوں پر عمل کرلیا جائے تو دانتوں کو صاف اور کیڑا لگنے سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے تاہم اس کے ساتھ ضروری ہے کہ میٹھی چیزوں کے استعمال میں اعتدال کا رویہ اپنایا جائے۔

Tuesday, 7 July 2015

Seven Reasons That Cause Depression in Children.... بچوں میں ڈپریشن کا باعث بننے والی 7 وجوہات

برلن: دنیا بھرمیں ڈپریشن کی وجہ سے بچوں اورنوعمرافراد میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جو کسی خطرناک المیے سے کم نہیں، بچوں اورنوعمرافراد کواس خطرناک مرض ڈپریشن سے بچانے کے لیے کچھ عوامل پرغورکرنا پڑے گا جس کے باعث وہ ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں۔
کارکردگی میں بہتری کے لیے دباؤ:
اسکولوں میں امتحانات اورروزمرہ ٹیسٹ کے حوالے سے بچوں پربہت زیادہ دباؤ بڑھتا ہی جارہا ہے جوان کی خوداعتمادی کو نقصان پہنچا رہی ہے،موجودہ طرززندگی میں اسکول اورکھیل کود کے میدان اورزندگی کے دیگرشعبوں میں بچوں پربڑھتے ہوئے اثرات انکے لیے نہایت خطر ناک ہیں،بچے بہترسے بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے دباؤ کا شکارہورہے ہیں جہاں گھرواپس آکربھی انہیں ڈھیروں ہوم ورک کرنا ہوتا ہے۔
گھریلو جھگڑے اورانتشار:
جرنل آف میرج اینڈ فیملی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق والدین میں علیحدگی کے باعث بچوں کوڈپریشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے جہاں کسی بھی گھراورخاندان میں والدین اوردیگراہل خانہ کے درمیان مسلسل ہونے والے جھگڑوں یا بالخصوص طلاق کا بچوں پرانتہائی برااثرپڑتا ہے۔
کھیل کود میں کمی اورمحدود سرگرمیاں:
بچوں کی جسمانی نشوونما میں غیرنصابی سرگرمیاں اورکھیل کود کا کرداربہت اہم ہوتا ہے۔ کھیل کود اور جسمانی حرکت سے دماغ ترق تازہ بھیرہتا ہے اوراس کی افزائش بھی ہوتی ہے اس سے بچوں کو مسائل حل کرنے اوراپنی صلاحیت بڑھانے کا موقع ملتا ہے۔ بچوں میں ذہنی بیماریوں کے ماہر پیٹرگرے کا کہنا ہے کہ کم کھیل کود سے بچوں میں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے۔
انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز:
امریکی طبی جریدے ’امیرکن جرنل آف انڈسٹریل میڈیسن‘ کے مطابق وہ بچے جو دن میں پانچ گھنٹے سے زیادہ کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کھیلتے ہیں یا ٹیبلٹ اوراسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، ان کے ڈپریشن کا شکار ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے جس کا رجحان جدید ٹیکنالوجی کے باعث دنیا بھرمیں بڑھتا جارہا ہے۔
چینی کا زیادہ استعمال:
بچوں کی پسند میں ٹافیاں، کیک، مٹھائیاں اور کاربونیٹڈ ڈرنکس وغیرہ شامل ہوتے ہیں ان مٹھائیوں کی وجہ سے ان میں چینی کا استعمال بڑھ جاتا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کی زیادہ مقدارڈپریشن کا باعث بن سکتی ہے اوریہ دماغ کی نشوونما سے متعلق ہارمونزکو بھی متاثرکرتی ہے۔
اینٹی بائیوٹکس کا استعمال:
کینیڈا کی میک ماسٹریونیورسٹی کے محققین نے چوہوں کو اینٹی بائیوٹک ادویات دے کران پرتجربہ کیا ان کی تحقیق کے مطابق چوہے بے چینی کا شکار ہوجاتے ہیں اوردماغ کا وہ حصہ متاثرہوتا ہے جو جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔
ٹاکسن یا نباتاتی زہرسے بچیں:
فصلوں میں استعمال ہونے والی کیمیائی ادویات، صفائی کے لیے استعمال ہونے والا مواد، کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ اور گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور آلودگی جسم کو بری طرح متاثر کررہی ہیں اور یہ زہریلے عناصر بچوں میں بھی بے چینی اورڈپریشن جیسے مسائل بڑھا رہے ہیں۔

Monday, 6 July 2015

Give Immediate Relief to Various Diseases / Illness With Easy domestic Prescription / ے


ایک چمچہ آملہ پاوڈر کو ایک گلاس دودھ کے ساتھ پینے سے بلڈ پریشر فوری طور پر نارمل ہوجاتا ہے۔
گھریلو نسخے نہ صرف کئی بیماریوں میں فوری آرام دیتے ہیں بلکہ پرانی بیماریوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں اسی لیے چند ایسے گھریلو نسخوں کے ذریعے آپ کئی بیماریوں سے فوری طور پر نجات حاصل کرسکتے ہیں۔
شدید سر درد میں:  جب آپ سرمیں شدید درد محسوس کریں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک سیب کو چھیل کر اسے اچھی طرح چوپ کرلیں اوراس کچھ نمک ڈال کر کھالیں اس نسخے کو اگر صبح نہارمنہ استعمال کیا جائے تو بہتر نتائج ملتے ہیں۔
گلے کی خرابی: تلسی کے 3 عدد پتوں کو پانی میں ابال لیں اور کچھ دیر کے لیے ہلکی آنچ پر پکنے دیں اس جوس سے غرارے کریں آپ کو گلے کی تکلیف میں فوری آرام ملے گا۔
پیٹ میں گیس کا علاج: چوتھائی چمچہ کھانے کا سوڈا کو ایک گلاس پانی میں ڈال کر پی لیں آپ جلد ہی آرام محسوس کریں گے۔
منہ کا السر: منہ میں چھالوں کا نکلنا یا پھر السر کا ہونا تکلیف دہ بیماری ہے لیکن ایک کیلے اور شہد کا پیسٹ بنا کر متاثرہ حصوں پر لگادیں فوری آرام ملے گا۔
ناک کی ہڈی یا گوشت کا بڑھ جانا:  عام طور پر اس بیماری میں سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے لیکن ایک سیب کا سرکہ لیں اور ایک چٹکی پسی سرخ مرچ میں ملا لیں اور پھر اس آمیزے کو آدھا کپ گرم پانی میں ڈال کر پینے سے فوری آرام ملتا ہے جب کہ مزید بہتر نتائج کے لیے دن میں 2 بار استعمال کریں۔
ہائی بلڈ پریشر: آج کل ہر کوئی ہائی بلڈ پریشر کی بیماری کا شکار نظر آتا ہے ایسے میں ایک چمچہ آملہ پاوڈر کو ایک گلاس دودھ کے ساتھ پینے سے بلڈ پریشر فوری طور پر نارمل ہوجاتا ہے۔
دمہ کی بیماری کا علاج: ایک چمچہ شہد کو ایک چمچہ دارچینی کے پاؤڈر کے ساتھ ملا کر رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔
بالوں کا گرنا: کافور کو ناریل کے تیل کے ساتھ ملا کر سونے سے قبل بالوں پر لگائیں آپ کو جلد بالوں کے گرنے سے نجات مل جائے گی۔
بالوں کا وقت سے قبل سفید ہوجانا: خشک آملہ کو کاٹ کر ناریل کے تیل میں اچھی طرح پکالیں یہاں تک کہ آملہ مٹی کی طرح ہوجائے پھراس آمیزہ کو روزانہ سونے سے قبل بالوں میں لگالیں۔
چہرے پر سیاہ داغ: اورنج جوس کو گلیسرین کے ساتھ ملا کر چہرے پرلگانے سے ایک طرف تو سیاہ داغ ختم ہوجاتے ہیں بلکہ رنگ بھی صاف ہوجاتا ہے۔

Want stay fit n Healthy than use Fresh Fruits and Vegetables 'Smoothie' ....فٹ رہنا ہے توتازہ پھلوں اورسبزیوں سے بنا ’’سمودی‘‘ استعمال کریں

سمودی سے بیماریوں کے خلاف جسمانی مدافعت بھی بڑھتی ہے،فوٹو فائل
برلن: مختلف ڈرنکس کے شوقین افراد طرح طرح کی ڈرنکس سے مزہ لیتے ہیں لیکن وہ افراد جو موٹاپے کا شکار ہیں خاص طور پر نوجوان انرجی ڈرنکس کے مقابلے’سمودی‘ جیسی ہیلتھ ڈرنک استعمال کرکے اپنے وزن میں خاطر خواہ کمی لاسکتے ہیں۔ 
سمودی بنانے کا طریقہ:
سمودی بنانا انتہائی آسان ہے اپنے من پسند پھل اورسبزیاں اچھی طرح بلینڈ کریں اورپسند ذائقے کے مطابق آپ اس میں دھنیا، پودينا، ادرک یا پھر شہد بھی شامل کر کے اسے مزید صحت بخش بنا سکتے ہیں جسے آپ 2 دن تک فرج میں بھی رکھ سکتے ہیں۔
مناسب غذا:
سمودی میں پروٹین اورکئی طرح کے وٹامن دیگر اہم غذائی عناصر ہوتے ہیں، جس سے آپ کا پیٹ بھی بھرجاتا ہے۔ یہ وزن میں کمی کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے،تازہ پھلوں اورسبزیوں سے بنا یہ ڈرنک آپ کو مکمل غذا فراہم کر سکتا ہے۔
رنگ برنگے سمودی ڈرنک:
مارکیٹ میں بھی کئی طرح کے سمودی مشروب دستیاب ہیں جوآپ گھرپرخود بھی بنا سکتے ہیں تو اپنے ذائقے کے مطابق آپ انہیں خرید بھی سکتے ہیں دوسری ڈرنکس کے مقابلے میں گھر یا دفترمیں دوپہرکے کھانے کی جگہ سمودی ڈرنک ایک اچھا متبادل ہے اورفائدے مند ہے۔
گرین سمودی:
سمودی میں سبزیاں جیسے کہ كھيرا، پودینہ، گوبھی اورپالک وغیرہ بھی ڈالی جاتی ہیں جبکہ سیب اور کیلے جیسے پھل بھی ملائے جا سکتے ہیں۔ خاص طورپرورزش سے پہلے اسے پینا کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔
فوائد:
پھلوں اورسبزیوں سے بنے مشروب سمودی میں اینٹی آکسیڈنٹ موجود ہوتے ہیں جو ہمارے خلیوں کو نقصان سے بچاتے ہیں ان کی وجہ سے جسم میں موجود زہریلے مادے نکل جاتے ہیں اورپیٹ بھی صاف ہوتا ہے جس کا نتیجہ جلد میں نکھار اوروزن میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے جبکہ بیماریوں کے خلاف جسمانی مدافعت بھی بڑھتی ہے۔

Wednesday, 10 June 2015

Few Foods Which Need To Be Part of Our Diet....وہ چند غذائیں جن میں سے ایک کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ضروری ہے

عام تاثر ہے کہ چکنائی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے تاہم ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ چکنائی کی ایک خاص مقدار جسمانی صحت اور جلد کے لئے مفید ہوتی ہے۔
چکنائی سے بھرپور اشیا دل کے امراض کا باعث بن سکتی ہیں لیکن چکنائی کی خاص مقدار کا استعمال دل کی بیماریوں سے حفاظت کا باعث بھی بنتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق کسی بھی شخص کو کم چکنائی والی اشیا سے دن میں 20 سے 35 فیصد کیلریز درکار ہوتی ہیں جب کہ ایک تندرست انسان چکنائی سے بھرپوراشیا سے 10 فیصد سے کم کیلریز لیتا ہے۔ تندرست اور موٹاپے سے نجات کے لئے اگر درج ذیل 6 اشیا میں سے کسی بھی ایک کا روزانہ استعمال کیا جائے تو آپ خود کو پرکشش اور تندرست رکھ سکتے ہیں۔
بادام : کیلریز کے اعتبار سے بادام ایک مفید غذا ہے اور ایک اونس بادام کا روزانہ استعمال آپ کو 14 گرام چکنائی دیتا ہے جو دن بھر کی جسمانی ضرورت کے لئے کافی ہے۔
ناشپاتی : آدھا ناشپاتی اپنے اندر 15 گرام تک چکنائی رکھتا ہے اس لئے ناشپاتی کا استعمال دن بھر کی ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مچھلی : جسم میں چکنائی کی مقدار پوری کرنے کے لئے مچھلی سب سے مفید غذا ہے اس لئے ہفتے میں ایک بار مچھلی کا استعمال آپ کو جسمانی طور پر چست رکھ سکتا ہے۔
انڈا : ایک انڈے میں 5 گرام تک چکنائی ہوتی ہے جو جسم کو 45 کیلریز فراہم کرتا ہے اس لئے انڈے کا استعمال جسم کو مطلوب کیلریز فراہم کرتا ہے۔
السی : السی کا ایک چائے کا چمچہ آپ کو 4 گرام تک چکنائی فراہم کرتا ہے جس میں 36 کیلریز ہوتی ہیں۔ اس طرح السی کا ایک چائے کا چمچہ جسم کو درکار چکنائی کے لئے کافی ہے۔
زیتون کا تیل : زیتون کا تیل یا کم از کم 10 زیتون جسم کو 5 گرام تک چکنائی کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔
انسانی جسم کو روزانہ درکارکیلریز کا پیمانہ کچھ اس طرح ہے، ایک گرام چکنائی میں کیلریزکی مقدار9 ہوتی ہے اور دن بھر میں ایک تندرست شخص کو 2 ہزارکیلریز درکارہوتی ہیں جو 44 سے 78 گرام تک چکنائی والی اشیا سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, 3 June 2015

Yoghurt: Summer's Best Diet ....گرمیوں کی بہترین غذا ’’دہی‘‘

فوٹو: فائل
دہی کیلشیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسی لیے وہ لوگ جو دودھ پینا پسند نہیں کرتے، ماہرین ان کو دودھ کے بہترین نعم البدل دہی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
توانائی سے بھرپور دہی طبی لحاظ سے بھی خاصی مفید اثرات کی حامل ہے۔ دہی ہمارے نظام ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے۔ بالخصوص گیس اور بدہضمی میں خاصی فائدہ مند ہے۔ دہی بچوں کو بنیادی غذائیت مہیا کرتی ہے۔ بچوں کی نشوونما میں خاصا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مدافعت کے نظام کو بہتر بناتی ہے۔ اس کے علاوہ بے خوابی کا بھی بہترین علاج ہے۔ دہی کی چھاچھ گرمی کی دوپہر میں گرمی کی شدت اور لو لگنے سے بچاؤ کے لیے بہترین ہے۔ اس کے علاوہ میٹھی اور نمکین لسی گرمی کے موسم میں بہترین غذائیت سے بھرپور مشروب ہے، جو گرمی کی شدت کو کم کر کے ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ بچوں کو دہی کھلانے کے لیے دہی میں چینی یا شہد یا مختلف پھلوں کے ٹکڑے شامل کیے جا سکتے ہیں۔ دہی سے آپ مختلف مزے دار پکوان بھی بنا سکتی ہیں۔
جلد کے لیے بھی دہی بہترین ہے۔ گرمیوں میں سورج کی حدت سے عموماً جلد جھلس سی جاتی ہے اور جسم کے کھلے ہوئے حصوں کی جلد متاثر ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایلوویرا کا پتے کا ٹکڑا لیں اس کو چھیل کر اس کا جیل پیالی میں نکال کر اچھی طرح کچل لیں۔ پھر اس میں دہی ملاکر متاثرہ جلد پر لگائیں، جلد ہی افاقہ ہوگا۔
دہی میں شہد اور چٹکی بھر ہلدی ملا کر چہرے پر ملیں، اگر ساتھ تھوڑی سی دودھ کی بالائی بھی شامل کر دی جائے، تو رنگت بے حد صاف ہو جائے گی۔ اب اس ماسک کو چہرے پر لگائیں کچھ دیر بعد پانی سے دھولیں۔
دہی کو گھرپر با آسانی جمایا جا سکتا ہے۔ نیم گرم دودھ میں ایک سے دو چمچے دہی ملا کر برتن پر ڈھکن ڈھک کر کسی گرم جگہ مثلاً چولھے کے پاس یا اوون میں رکھ دیں۔ چند گھنٹوں میں بہترین دہی جم جائے گی۔ دہی سے ہی چند ذائقے دار تراکیب درج ذیل ہیں۔
دہی کی آئس لولی
اجزا:
دہی (ایک پاؤ)، اسٹرابیری یا آم (آدھی پیالی)، چینی (دو چمچے)
ترکیب:
دہی میں چھلے ہوئے یا کٹے ہوئے پھل اور چینی ڈال کر بلینڈ کرلیں پھر پلاسٹک کے چھوٹے کیس میں ڈال کر جما دیں۔ آدھے گھنٹے بعد فریزر سے نکال کر شاسلک اسٹک ڈال کر دوبارہ جما دیں۔ چند گھنٹوں میں لذیذ دہی کی آئس لولی تیار ہوگی۔ دہی کی آئس لولی جب جم جائے، تو پیالی یا گلاس یا سانچے سے نکال کر پلیٹ میں ڈالیں اس پر لال شربت ڈال کر پیش کریں۔
اس میں حسب پسند کوئی بھی پھل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بچے یا اہل خانہ پھل کا ذائقہ پسند نہیں کرتے، تو دہی میں صرف چینی ڈال کر تھوڑی سی کریم شامل کر کے پھینٹیں اور جمانے رکھ دیں۔ چینی کی مقدار بڑھا دیں۔
فروزن فروٹ
اجزا:
دہی (ایک پاؤ)، کریم (تین چمچے)، چینی (دو چمچے)، اسٹرابیری، انگور اور بلیو بیری، (تمام پھل ملاکر ڈیڑھ پیالی)
ترکیب:
دہی میں کریم اور چینی ملا کر پھینٹ لیں، پھر تمام پھلوں کو اس دہی میں ڈبوکر پلیٹ میں رکھ کر جمالیں۔ انگور کے دانوں کو ٹوتھ پک یا شاسلک اسٹک میں لگا کر پھر دہی میں ڈالیں اور پھر جما دیں پلیٹ میں رکھ کر گرمی کے دنوں میں یہ فروزن فروٹ کھانے کے بعد بہترین میٹھا ہے اور بچوں کی بے وقت کی بھوک کا بھی بہترین حل ہے۔
بیکڈ چکن
اجزا:
مرغی کا گوشت (آدھا کلو)، دہی (ایک پاؤ)، پسا ہوا ادرک لہسن (ایک کھانے کا چمچا)، نمک (ایک کھانے کا چمچا)، پسی ہوئی لال مرچ (دو چائے کے چمچے)، لیموں (ایک عدد)، زردے کا رنگ (چٹکی بھر)، تیل (حسب ضرورت)
ترکیب:
دہی میں پسے ہوا ادرک لہسن، نمک، پسی ہوئی لال مرچ، لیموں کا رس اور زردے کا رنگ شامل کر کے اچھی طرح پھینٹیں۔ اس کے بعد مرغی کے گوشت کی چھوٹی بوٹیاں بنا کر اس میں شامل کریں۔ ملا کر کانٹے کی مدد سے گوشت کو گودیں تاکہ مسالا گوشت کے اندر تک لگ جائے۔ دو گھنٹے کے لیے فریج میں رکھ دیں، پھر بیکنگ ٹرے پر چند قطرے تیل کے ڈال کر اچھی طرح پھیلا لیں۔۔۔ اس کے بعد مرغی کا آمیزہ اس پر ڈال کر اوون میں 150 ڈگری پر پکنے رکھ دیں۔ کچھ دیر بعد ڈش کو نکال کر بوٹیوں کو پلٹ دیں اور دوبارہ پکنے رکھ دیں۔ کچھ دیر یہ میں تیار ہو جائے گا، لذیذ بیکڈ چکن سلاد رائتے اور نان کے ساتھ تناول فرمائیں۔
اگر اوون دست یاب نہ ہو تو آپ اسی ترکیب سے فرائینگ پین میں بھی بنا سکتی ہیں۔ اگر باربی کیو کا ذائقہ دینا چاہیں، تو جب بیکڈ چکن تیار ہو جائے تو کوئلے کا دم دے دیں۔
دہی کی کڑھی
اجزا:
دہی (ایک پاؤ)، بیسن کا آٹا (ایک پیالی)، ہلدی (ایک چائے کا چمچا)، تیل (آدھی پیالی)، پیاز (ایک عدد)، میتھی (ایک چھوٹی گٹھی)، کڑی پتے (چند عدد)، ٹماٹر (چار عدد)، نمک (حسب ذائقہ)، پسی ہوئی لال مرچ (حسب ذائقہ)، رائی کے دانے (آدھا چائے کا چمچا)
ترکیب:
دہی میں بیسن کا آٹا اور آدھا چائے کا چمچا، ہلدی ملا کر پھینٹ لیں۔ تین سے چار گلاس پانی شامل کردیں اچھی طرح پھینٹیں دیگچی میں تیل گرم کر کے کڑی پتے، میتھی کے پتے، رائی کے دانے ڈالیں۔ اس کے بعد تھوڑا سا چمچا چلائیں اور کٹی ہوئی پیاز ڈال دیں۔ جب پیاز سنہری ہو جائے تو کٹے ہوئے ٹماٹر، لال مرچ، نمک اور بقیہ ہلدی ڈال کر بھون لیں، پھر دہی کی لسی ڈال کر اچھی طرح ملا لیں اور پکنے دیں۔ جب پک جائے تو پکوڑے شامل کر کے چاولوں کے ساتھ پیش کریں۔
رائتہ سلاد
اجزا:
دہی (ایک پاؤ)، ہرا دھنیا (آدھی گٹھی)، ہری مرچ (دو سے چار عدد)، نمک (حسب ذائقہ)، پیاز (ایک عدد چھوٹی)، کھیرا (ایک عدد)، گاجر (ایک عدد)۔ کٹی ہوئی بند گوبھی (آدھی پیالی)
ترکیب:
دہی میں ہرا دھنیا، ہری مرچ، نمک ملاکر پیس لیں۔ بلینڈ کرلیں تمام سبزیاں چھیل کر باریک کاٹ لیں۔ سبزیوں کو دہی کے رائتے میں اچھی طرح ملاکر فریج میں ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں۔ کھانے کے ساتھ یہ لذیذ رائتہ سلاد کھانے کے ذائقے کو دو بالا کردے گا۔ دہی کایہ رائتہ سلاد بے حد صحت بخش بھی ہے۔

Saturday, 23 May 2015

Control Sugar / Diabetes With Easy to Domestic Prescriptions....شوگر کو کنٹرول کرنے کے آسان گھریلو نسخے

دنیا بھر میں لوگوں کی اکثریت شوگر کی بیماری کا شکار ہے جب کہ شوگر صرف خود ایک بیماری نہیں بلکہ اس سے بلڈ پریشر، اندھا پن، گردے، دل کی بیماریاں، شریانوں کو نقصان اسٹروک اور کوما جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں لیکن چند گھریلو نسخے استعمال کر کے ذرا سی محنت اور توجہ سے گھر بیٹھے اس بیماری کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
قدرتی کچی غذائیں: چند قدرتی غذائیں ایسی ہیں جن کو اگر کچا کھایا جائے تو یہ شوگر کا بہترین علاج ہے ان غذاؤں میں پھل، جوسز، نٹس اور سبزیاں شامل ہیں جن میں قدرتی طورپر انزائم اور فائبر موجود ہوتا ہے جو جسم میں شوگر کو رفتہ رفتہ جذب کرتا ہےجس کے نتیجے میں بلڈ پریشر لیول متوازن رہتا ہے۔ سیب، آڑو، بیر، گاجر، لیموں اور اورنج میں حل پذیرفائبر بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جو کہ بلڈ پریشر کے ساتھ کولیسٹرول لیول کو بھی متوازن رکھتا ہے۔
ورزش: ورزش اور پیدل چلنے سے نہ صرف شوگر بآسانی کنٹرول کی جاسکتی ہے بلکہ اس کی شدت کو طویل عرصے تک روکا جا سکتا ہے۔ ورزش سے وزن کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے جب کہ یہ جسم میں انسولین کی حساسیت کو بڑھا دیتی جو ٹائپ 2 شوگر کی وجوہات کو ختم کرتی ہے جب کہ اس سے بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔
مراقبہ کے عمل سے: مراقبے کا عمل جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت کو کم کرتا ہے جب کہ کولیسٹرول اور ایڈری نا نائل نامی ہارمونز کو بڑھا دیتا ہے جو جسم سے انسولین اور گلوکوز کا لیول بڑھا جاتا ہے ان ہی ہارمونز کا استعمال کرتے ہوئے گلوکوز اور انسولین کو توازن میں رکھا جاتا ہے۔
تلسی کے پتے: ان پتوں میں خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کی بھر پور صلاحیت ہوتی ہے کیوں کہ ان پتوں میں اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتا ہے جو آکسی ڈیٹیو اسٹریس لیول کو کم کرتا ہے جو کہ شوگر کا باعث بنتا ہے۔
ناگ پھنی اور السی کے بیج: ناگ پھنی کا جوس خون کی شوگر کو کم کرتا اور انسولین کے لیول کو بڑھا دیتا ہے جب کہ السی کے بیج پوسٹ پینڈیل شوگر کے لیول کو 28 فیصد تک کم کردیتی ہے۔
بلبیری کے پتے اور دارچینی: بالبیری کے پتے شوگر کو لیول کم کرنے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں جب کہ مسلسل ایک ماہ  تک دار چینی کا استعمال بھی خون میں شوگر کو قابو میں مدد کرتا ہے۔
سبز چائے کا استعمال: سبز چائے کے پتوں میں فائبر موجود ہوتا ہے جو کھانے کے ٹوٹنے کے عمل کو آہستہ کردیتا ہے جو شوگر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسپغول کے ذریعے: اسپغول کوعام طور پر قبض کشا سمجھاجاتا ہے اور جب اسے پانی میں حل کیا جاتا ہے تو پھول کر جیلی کی شکل اختیار کرلیتا ہے جو گلوکوز کے جذب ہونے کے عمل کو آہستہ کردیتا ہے جب کہ اسپغول شوگر میں استعمال ہونے وال ڈرگ میٹفورمن کے مضر اثرات کو بھی ختم کرتا ہے۔
مالش کے ذریعے: مالش جسم میں موجود انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو بڑھاتی ہے جب کہ مالش سے پینکریاز اور ہارمونیل سسٹم کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔
کریلے کے چھلکے اور لوکی: ان میں انسولین پولی پیپ ٹائیڈ پی بناتے ہیں جو شوگر کو کنٹرول کرنے میں بے حد مفید ہیں۔ لوکی سے چائے، کئی ڈشز سالن اور سوپ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
نیم کے تازہ کونپلیں: نیم کے تازہ پتوں کے جوس کو نہار منہ استعمال سے شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بنولہ کے بیج: بنولہ کے بیج میں قدرتی طور پر اینٹی آکسیڈینٹس بوریج تیل موجود ہوتا ہے جو خون میں موجود شوگر کے لیول کو کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔

Nail Polish Increases The Risk of Cancer ...ناخن پالش سے کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں،

کیلیفورنیا: خواتین عام طور پر اپنے چہرے اور ناخن کی خوبصورتی کے لیے مصنوعی کریموں اور ناخن پالش کا استعمال کرتی ہیں جس سے عارضی خوبصورتی تو مل جاتی ہے لیکن طبی طور پریہ مصنوعات صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ ایک تحقیق کے مطابق ہاتھوں کی خوبصورتی بڑھانے والی ناخن پالش انسان کو کینسر جیسی خوفناک بیماری میں بھی مبتلا کرسکتی ہے۔
امریکا میں ناخن پالش پر کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ناخن پالش میں موجود کیمیکل میں زہریلے عنصر پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتے ہیں  جس سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیلیفورنیا کی اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ناخن پالش میں موجود کیمیکل کینسر سے لے کر تولیدی عمل میں پیچیدگیوں جیسی بیماریوں کو جنم دیتا ہے کیونکہ ناخن کیئر مصنوعات میں زہریلے اور خطرناک اجزا موجود ہوتے ہیں جو کہ کینسر پیدا کرنے والے مرکب فارمیلڈی ہائیڈ اور دیگر اجزا کی پیدائش کرتا ہے اور یہ جسم کے ہارمونز کے نظام کو تباہ کردیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تین زہریلے عناصرٹولیون، فارمیلڈی ہائڈ اور فیتھا لیٹ انسانی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں جب کہ اس سے بیوٹی پارلرپرکام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ بیوٹی پارلرز میں ان کیمیکل  سے نکلنے والے بخارات کے اخراج کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا جس سے ان کیمیکل کے اثرات کمرے میں ہی رہ جاتے ہیں اورہوا کے ذریعے کام کرنے والے افراد کے سانس سے جسم میں داخل ہوکر جلد، آنکھوں، سانس، سر کا درد اور الرجی جیسی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ناخن پالش میں ان تین زہریلے اجزا کے علاوہ کچھ اور خطرناک کیمکل بھی موجود ہوتے ہیں جب کہ ٹولیون وہ جز ہے جو ناخن پالش کو چمک دیتا اور اس کے رنگ کو بحال رکھتا ہے لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ یہ عنصر مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے جو تولیدی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک ان مصنوعات سے ایسی بیماریوں کے علاوہ تولیدی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں جن میں اچانک اور وقت سے پہلے بچے کی پیدائش کے ساتھ کم وزن کے بچے کی پیدائش جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے اس لیے خواتین کو ناخن پالش کے استعمال میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔

Remove Your Eyes Weakness....اپنی آنکھوں کی کمزوری دور کیجئے

یوں تو جسم کا ہر حصہ انسان کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے لیکن آنکھیں قدرت کا عطا کردہ ایسا بیش بہا تحفہ ہے کہ جس سے انسان کائنات کے رنگوں اور حسن و دلکشی سے لطف اندوز ہوتا ہے اور جب کہ اس کی اہمیت کا احساس اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب انسان کی بینائی کھو جائے تو زندگی پھیکی اور بوجھ لگنے لگتی ہے، انہی آنکھوں پر ذرا سی توجہ دے کر ہم اپنی بینائی کو بہترکرسکتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کہ مختلف ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کردہ آسان ٹپس اور  ذرا سی کوشش سے آنکھوں کی بینائی کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
آنکھوں کے لیے ریلیکسیشن مشق: اپنے دونوں ہاتھ کی ہتھیلیوں کو آپس اچھی طرح رگڑیں یہاں تک کہ وہ گرم ہوجائیں اب انہیں اپنی آنکھوں پر کچھ دیر کے لیے رکھ دیں جبکہ اس دوران روشنی کو آنکھ تک نہ آنے دیں، یہ عمل دن میں کئی بار دہرایا جاسکتا ہے۔
آنکھوں کو مسلسل جھپکانا: مسلسل آنکھوں کو جھپکانے سے آنکھیں تازہ رہتی ہیں اور آنکھ پر کام کے بوجھ کے اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ کمپوٹر پر کام کرتے ہیں ان کی آنکھیں مسلسل ایک ہی جگہ دیکھنے کی وجہ سے جلدی تھک جاتی ہیں ایسے افراد کے لیے ہر 3 سے 4 سینکڈ بعد آنکھیں جھپکانا بہترین مشق ہے۔
فاصلے پر نظر جمائیں: کمپیوٹر استعمال کرنے والے لوگ عام طور پر دور کی نظر کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں ایسے افراد کو چاہئے کہ زیادہ فاصلے پر موجود کسی چیز کو بغور 5 سیکنڈ تک دیکھیں اور اس عمل کو 30 سے 45 منٹ بعد دہرائیں، اس عمل سے دور کی اشیا پر فوکس رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
پانی کے چھینٹے ماریں: اگر آپ محسوس کریں کہ آپ کی آنکھیں بوجھل ہورہی ہیں تو فوری اپنی آنکھوں کو اچھی طرح پانی سے دھو لیں اس دوران پانی کو زور سے آنکھوں پر ماریں جبکہ اس عمل کو روزانہ دہرائیں۔ اس طرح دھونے سے آنکھوں پر پڑنےوالے زیادہ بوجھ سے نجات مل جائے گی اور تازگی محسوس کریں گے۔
ہندسے 8 کی مشق: یہ مشق آنکھوں کی لچک کو بڑھا دیتی ہے، اس مشق کے دوران  اپنے تصور میں 8 کے ہندسے کو خود سے 10 فٹ کے فاصلے  پربنائیے اور اپنی آنکھوں میں الگ الگ 8 کے ہندسے کو ٹریس کریں۔
زومنگ ورزش کی مشق:آرام دہ پوزینشن میں بیٹھ جائیں، اپنے بازوں کو آگے کی طرف مکمل طور پر پھیلا دیں اور ہاتھ کے انگھوٹوں کو آہستہ آہستہ اپنے چہرے کے قریب لاتے جائیں یہاں تک کہ انگھوٹے چہرے سے صرف 3 انچ کے فاصلے پر رہ جائیں، اب اپنے انگھوٹوں کو دوبارہ اپنے چہرے سے دور کرتے جائیں۔ اس مشق کو چند سیکنڈز تک دہرائیں۔
صبح کی واک: علی الصبح واک آنکھوں کو تازگی اور سکون دیتی ہے جبکہ صبح سورج کی مناسب روشنی بھی آنکھوں کو حاصل ہوتی ہے۔
اپنی آنکھوں کو چشمے کا محتاج نہ بنائیں: چشموں سے صرف آنکھوں کی تیزی سے خراب ہوتی روشنی کو روکا تو جاسکتا ہے لیکن بہتر نہیں کیا جاسکتا اس لیے کوشش کریں کہ اوپر دی گئی ٹپس کا استعمال کریں اور اپنی آنکھوں کو چشمے کا محتاج نہ بنائیں۔

Tuesday, 19 May 2015

Vitamin C Is Essential For Health.....صحت کے لئے ’’وٹامن سی‘‘ انتہائی ضروری

وٹامن سی ہڈیوں اور دانتوں کو بھی مضبوط اور صحت مند بناتا ہے، فوٹو:فائل
 کراچی: وٹامن سی  نہ صرف ہمیں گرمی کے موسم میں  جسم پر پڑنے والے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے  بلکہ  بیماریوں سے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
وٹامن سی ہمارے جسم میں موجود پانی اور خون میں شامل ہو کر بالوں،ناخنوں اور جلد کی نشو ونما میں مفید ثابت ہوتا ہے جب کہ یہ ہڈیوں اور دانتوں کو بھی مضبوط اور صحت مند بناتا ہے۔وٹامن سی تازہ سبزیوں اور ترش پھلوں میں بکثرت پایا جاتا ہے ،اگر آپ وٹامن سی کی کمی کا شکار ہیں تو درج ذیل چیزوں کا استعمال کرکے خود کوصحت مند بناسکتے ہیں۔

مالٹا:
یہ  وٹامن  حاصل کرنے کا سب بڑا خزانہ ہے اور اس میں کثیر مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔ اس کےجوس میں شامل فلیونائیڈز وٹامن سی کے ساتھ مل کر جسم کے مدافعتی نظام کو بڑھاوا دیتے ہیں اور خون کی نالیوں کو مضبوط بناتے ہیں، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق مالٹا کھانے سے انسانی مزاج پر انتہائی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
شملہ مرچ:یہ سبزی بھی توانائی حاصل کرنے کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے اور اس میں  بڑی مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔سلاد  اور سوپ میں شامل کرکے اس بہترین سبزی کے فوائد سے مکمل طور پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
اسٹرابری:
بڑی مقدار میں وٹامن سی حاصل کرنے کے لئے اسٹرابری  سے بہترین کوئی چیز نہیں،ذائقہ بخش اور فرحت افزا یہ پھل وٹامن سی کے علاوہ فولاد سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔اسٹرابری کا ملک شیک بنا کر پینے سے اس کے فوائد میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

پپیتا:
یہ پھل بھی وٹامن  سی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،اس کے علاوہ پپیتے میں وٹامن اے اور پوٹاشیم بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ،پپیتا قبض کشاء پھل ہے جس میں فائبر کی موجودگی کولیسٹرول لیول کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔

Friday, 15 May 2015

Lemon: Invaluable Gift of Nature With Numerous Features .....قدرت کے انمول تحفے لیموں کی بے شمار خوبیاں

اگر آپ کی جلد خشک اور رف ہے تو لیموں کے رس کے ساتھ اتنی ہی مقدار میں شہد ملا لیں اور اسے اپنے چہرے، ہاتھ اور پاؤں پر لگائیں، فوٹو فائل
لیموں قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جو اپنے اندر بے شمار خوبیاں سموئے ہوئے ہے جب کہ اس کی مدد سے جلد، بال اور ناخن کو خوبصورت اور دلکش بنایا جاسکتا ہے۔
لیموں کے رس سے جلد کو نکھاریئے: اکثر لوگ بالخصوص خواتین اپنے چہرے پر کیل مہاسوں اور کالے رنگ کے نشانات بن جانے سے سخت پریشانی رہنے لگتی ہیں اور اس کو دور کرنے کے لیے انتہائی مہنگی کریموں کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن لیموں کا رس یہ کام کم وقت اور کم خرچے میں کر دیتا ہے۔ لیموں کے چند قطرے لیں اور روئی کے ٹکڑے میں جذب کر کے اپنے چہرے پر لگائیں اور 20 منٹ بعد چہرہ دھو لیں اس عمل کو ایک دن چھوڑ کر دہرائیں آپ کے چہرے کے داغ اور کیل مہاسے دور ہوجائیں گے۔
اگر آپ کی جلد خشک اور رف ہے تو لیموں کے رس کے ساتھ اتنی ہی مقدار میں شہد ملا لیں اور اسے اپنے چہرے، ہاتھ اور پاؤں پر لگائیں، چند دن میں اس کے حیرت انگیز نتائج آپ کے سامنے ہوں گے۔ چہرے پر تازگی اور چمک لانے کے لیے بھی لیموں کے جوس اور ناریل کے پانی کو ملا کر چہرے ہر لگائیں اور روزانہ فیس واش کی طرح اپنے چہرے کو اس سے دھو لیں۔ کوہنیوں، ایڑھیوں اور پاؤں کے انگوٹھوں پر پڑ جانے والے کالے نشان ختم کرنے کے لیے جسم کے ان حصوں پر لیموں کے چھلکے مسلیں اس سے جلد ان نشانات سے چھٹکارا مل جائے گا۔
ناخنوں کی خوبصورتی کے لیے: عام طورپر خواتین بھربھرے اور پیلے ہوتے ناخنوں سے سخت پریشان ہوتی ہیں تو جناب اس کا بہت ہی آسان حل موجود ہے۔ لیموں کے جوس میں چند قطرے کسٹرڈ آئل یا بادام کا تیل ملا دیں اس مکسچر کو 20 منٹ تک لگا رہنے دیں اور بعد میں ہلکے گرم پانی سے دھولیں۔
صحت مند بالوں کے لیے: بالوں کے گرنے اور خشکی سے اکثر خواتین پریشان رہتی ہیں اور اس کے علاج کے لیے شیمپو اور کئی طرح کے تیل استعمال کرتی ہیں لیکن توقع کے مطابق نتائج حاصل نہیں کرپاتیں۔ لیموں کے رس میں اس کا حل موجود ہے، چند قطرے لیموں کا رس ہفتے میں 3 دن اپنے بالوں پر لگائیں جس سے آپ کے بال نہ صرف چمکدار بلکہ مضبوط بھی ہو جائیں گے۔
ہونٹوں کی خوبصورتی کے لیے: لیموں پھٹے ہوئے اور سیاہ ہونٹوں کو نہ صرف نرم  بلکہ گلابی بنا دیتے ہیں، لیموں کے رس کو تھوڑی مقدار میں چینی کے ساتھ ملا کر اپنے ہونٹوں پر لگائیں تو جلد آپ کے ہونٹ نرم اور گلابی ہوجائیں گے۔

Easy To Clean Teeths And Make Them Flashy With Home Prescription....دانتوں کو صاف اور چمک دار بنانے کے آسان گھریلو نسخے

کراچی: دانتوں پر گہرے رنگ کی تہہ کو ’’پلاک‘‘ کہا جاتا ہے جو دانتوں کی خوبصورتی اور چمک کو متاثر کرتا ہے اوراسے صاف کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا لیکن اب آپ آسان گھریلو نسخوں کے ذریعے اپنے دانتوں کو صاف اور چمکدار بنا سکتے ہیں۔
میٹھا سوڈا 
اگر میٹھا سوڈا ( بیکنگ سوڈا) تھوڑا پرانا ہو تو اس سے دانت بہت اچھی طرح صاف ہوسکتے ہیں اس کے لیے برش کو تھوڑا گیلا کریں اور اس پر میٹھا سوڈا لگا کر دانتوں پر ملیں جب کہ اس میں ایک چٹکی نمک ملا کر استعمال کیا جائے تو دانت اور زیادہ چمکدار ہوسکتے ہیں۔
 سیب کا سرکہ
دانتوں کو صاف کرنے کے لیے ایک اچھا نسخہ سیب کا سرکہ بھی ہے، برش کو سرکے میں ڈبوکر گندے دانتوں پر آزمائیے اور اس کے بعد اچھی طرح کلی کرلیں کیونکہ سرکے سے دانتوں کے انیمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہٰذا اس عمل کو مکمل کرنے کےبعد آپ کو چند دنوں میں بھی حوصلہ افزا نتائج نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔
سورج مکھی کے بیج اور ورکش پھول
سورج مکھی کے پھول ، ورکش پھول یا شجرِ لائم (linden flower) بھی دانتوں کو چمکدار بنانے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں اس کے لیے 4 چمچے سورج مکھی کے پھول ، 4 چمچے ورکش پھول اور ایک لیٹر پانی لیں ان سب کو ملاکر دھیمی آنچ پر آدھے گھنٹے تک پکائیں اور ہر کھانے کے بعد اس سے دانت برش کریں اور پھر دیکھیں کہ چند دنوں میں آپ کے دانت کتنے صاف ہوجاتے ہیں۔

Easy Ways To Manage / Control Depression.....ڈپریشن پرقابو پانے کے آسان طریقے

ڈپریشن ایک خطرناک ذہنی کیفیت ہے جس میں ذہنی اور جسمانی خطرات دونوں ہی شامل ہیں اورعموماً یہ انسان کے دماغ پراداسی کی صورت میں حملہ آور ہوتا ہے اگر اس کا بروقت سدباب نہ کیا جائے تو یہ مجموعی طورآپ کے مزاج میں تبدیلی لا کر آپ کی زندگی کو منتشر کر کے رکھ دیتا ہے تاہم اب اس کو آسان گھریلو نسخوں کے ذریعے کافی حد تک قابو کیا جاسکتا ہے۔
دودھ شہد اور سیب کا استعمال: روزانہ ایک گلاس دودھ میں شہد ملا کراس کے ساتھ سیب کھانا آپ کے موڈ میں خوشگوار تبدیلی لاتا ہے اور آپ اس کےذریعے ڈپریشن پر کافی حد تک قابو پاسکتے ہیں۔
الائچی کا استعمال: 2 بڑی الائچی لے کرانہیں پیس کر اس کا پاوڈربنا لیں اور پھرگرم پانی کے ایک گلاس میں ملا کراس میں چینی ڈال کراس کا استعمال دن میں دو مرتبہ کریں اس کے ذریعے ڈپریشن پرقابو پایا جاسکتا ہے۔
گلاب کے پتے: اگرآپ کسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ محسوس کررہے ہیں توتازہ گلاب کے پتوں کوایک کپ ابلتے ہوئے پانی میں ڈالیں اوراس میں چینی ملا کرپی لیں آپ کو ڈپریشن سے چھٹکارا مل جائے گا۔

Steam..Useful For Diseases As Well As Beauty.....بھاپ ۔ ۔ ۔ بیماریوں سے نجات کے ساتھ ساتھ حُسن کے لیے بھی مفید

بھاپ کے ذریعے نہ صرف مختلف بیماریوں سے نجات حاصل کی جاتی ہے، بلکہ یہ طریقہ کار چہرے کی تازگی، نکھار اور قدرتی کشش کو برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

زمانہ قدیم میں یونان اور روم کی خواتین اپنی خوب صورتی کو برقرار رکھنے کے لیے باقاعدگی سے پورے جسم پر بھاپ لیا کرتی تھیں۔ یہ قدرتی خوب صورتی قائم رکھنے کا ایک انتہائی سستا طریقہ ہے۔ اس کے لیے پارلر کو بھاری فیس دینے کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ یہ عمل گھر میں صرف ایک پیالے اور تولیے کی مدد سے بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ اس سے چہرے کے بند مسام کھل جاتے ہیں۔ ان میں موجود سفید اور سیاہ کیل نرم ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی گرد وغبار اور دھول مٹی کا بھی صفایا ہو جاتا ہے۔
بھاپ لینے کے عمل سے چہرے پر موجود داغ دھبے بھی فوری طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ بھاپ کا عمل جلد کی تمام اقسام کے لیے موزوں خیال کیا جاتا ہے۔ ہفتے میں ایک بار بھاپ لینا بھی کافی سمجھا جاتا ہے، البتہ چکنی جلد والی خواتین اس عمل کو ہفتے میں دو بار بھی کر سکتی ہیں۔ فیشل اسٹیم کے ذریعے جلد کے مساموں کی صفائی ہوتی ہے۔ چہرے کی یہ صفائی عام طور پر نارمل فیس واش یا کلینزنگ کے ذریعے ممکن نہیں ہو پاتی۔ اس لیے ماہرین بیوٹی فیشل کے ہفتے واری پروگرام کے ترجیح دیتے ہیں۔ چہرے پر انوکھی چمک اور تازگی کا احسا س ہونے لگتا ہے۔

بھاپ لینے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے آپ اپنے بالوں کو اچھی طر ح باندھ لیں۔ اس کے بعد کسی اچھے کلینزر سے چہرے کا مساج کریں۔ یاد رکھیں کہ مساج کے دوران آپ کی انگلیاں چہرے پر دائرے کے انداز میں حرکت کرنی چاہئیں۔ چہرے کی جلد سے گندگی اور گرد وغبار کی صفائی کر لیں، تو زیادہ اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔

مساج کے بعد ایک پیالے میں پانی اُبال لیں۔ چہرے کی بھاپ کے لیے پانی کا درجہ حرارت 110 ڈگری بہترین خیال کیا جاتا ہے۔

اس پانی میں اپنی اسکن ٹون کے مطابق ہربل اشیا بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تلسی کے پتے، نیم، پودینہ یا لیموں کے پتے وغیرہ۔ اس کے علاوہ اپنے پسندیدہ تیل کے چند قطرے بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

چہرے کا مساج کم از کم دس سے پندرہ منٹ تک جاری رکھیں۔

اب ابلتے ہوئے پانی کو کسی دوسرے پیالے میں ڈالیں اور ایک آرام دہ یا اونچی میز پر رکھ دیں۔ ایک موٹا اور بڑا تو لیہ لے کر اپنے سر اور چہرے کو اس پیالے کے اوپرذرا فاصلہ سے رکھ کر ڈھک لیں۔

کم از کم دس سے پندرہ منٹ تک بھاپ آپ کے چہرے تک پہنچنی چاہیے۔ اس دوران اگر آپ کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہو یا آپ خود کو غیر آرام دہ محسوس کر رہی ہوں، تو ہر تھوڑی دیر کے بعد چہرے سے تولیہ ہٹا کر سانس لے سکتی ہیں۔ اس سے بھاپ لینے کا عمل متا ثر نہیں ہو گا۔

 پندرہ منٹ کے بعد اسٹیم لینے کے عمل کو ترک کر دیں اور چہرے پر کوئی اچھا فیس پیک ماسک لگالیں۔ اگر آپ کے پاس فیس پیک لگانے کا ٹائم نہیں ہے، تو آپ اس کے بہ جائے صرف آئس کیوبز سے اپنے چہرے کا ہلکے ہلکے مساج کریں۔ اس سے جلد کا درجہ حرارت معمول پر آجائے گا۔
مہینے میں ایک سے دو بار بھی بھاپ لینا ضروری ہے، لیکن اس کا دورانیہ 10سے 15 منٹ سے ذیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
اسٹیم کی زیادتی چہرے کو شدید نقصان دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف جلد کی قدرتی ٹون تباہ ہو سکتی ہے، بلکہ چہرے پر قبل از وقت جھریاں بھی پڑ نے کا خد شہ رہتا ہے۔
بھاپ لیتے ہوئے اپنی جلد کی خصوصیات کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ دانوں اور ایکنی والی جلد کی حامل خواتین کو اسٹیم لینے میں احتیاط برتنی چاہیے، کیوں کہ گرمیوں کے موسم میں ایسی جلد کو خاصی مشکلات کا سا مناہوتا ہے، ایسی جلد کے لیے گھر میں اسٹیم کا عمل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقے کو اپنایا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کو ہفتے میں ایک بار استعمال کریں، لیکن اگر چہرے پر دانے بہت زیادہ ہوں تو پھر ایک ہفتے میں دو بار بھی یہ اسٹیم لی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ایک لیٹر سادہ پانی کو کھلے برتن میں ابال لیں۔ اب اس میں ایک چائے کا چمچا ہلدی، تین سے چار ٹکڑے دار چینی اور ایک کھانے کا چمچا گرین ٹی کے پتے شامل کر لیں اور چولھا بند کر دیں۔ اب اس پانی سے چہرے پر بھاپ لیں۔

گرین ٹی کے پتے جلد کو تازہ کر دیں گے۔ دھوپ کی تمازت سے جھلسی ہوئی جلد پر اس کے ذریعے سے نکھا ر پیدا ہوگا۔ ہلدی میں قدرتی طور پر موجود سلفر ہماری جلد کو ہر قسم کے انفیکشن سے دور کرتی ہے، جس سے چہرے پر موجود دانے ختم ہونے میں مدد ملتی ہے، جب کہ دار چینی سے جلد کی الرجی دور ہوتی ہے۔

خشک جلد کے لیے بھاپ کے پانی میں Red Clover، یاسمین کے پھول یا چند قطرے لیونڈر آئل شامل کر لیں اور اس پانی سے کم از کم آٹھ سے دس منٹ تک بھاپ لیں۔ یہ پانی ایک اچھا موئسچرائزر بن جائے گا اور جلد نرم اور ہم وار ہو جائے گی۔

چکنی جلد والی خواتین اسٹیم لینے کے پانی میں لیموں کے چند قطرے، گرین ٹی کے چند پتے، باسل یا پھر روزمیری پھول کے چند پتے شامل کر کے پھر بھاپ لیں۔

حساس جلد کی حامل خواتین اسٹیم لیتے وقت پیالے سے چہرے تک کا فاصلہ عام طریقہ سے زیادہ ہی رکھیں تو بہتر ہوگا اور دو سے تین منٹ سے زیادہ بھاپ نہ لیں۔ حساس جلد کے لیے بھاپ لینے والی خواتین اس پانی میں عرق گلاب، گرین ٹی کے پتے یا ایسینشل آئل کے قطرے شامل کر سکتی ہیں۔

The Easiest Way To Get Rid of Snoring ...... خراٹوں سے نجات پانے کا آسان طریقہ

لندن: رات کے سناٹے میں گونجتے خراٹے ہر ایک کو برے لگتے ہیں جب کہ مغرب میں خراٹے شوہر اور بیوی کے درمیان علیحدگی کی وجہ بن جاتی ہیں۔

امریکی تحقیقی مقالے کے مطابق زبان اور حلق کی چند آسان ورزشوں سے رات کے وقت ہولناک خرخراہٹ سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ امریکی جریدے کے مطابق خراٹوں کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں اور ماہرین کی تجویز کردہ ورزشوں سے خراٹوں پر بہت حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

ماہرین نے اس کے لیے 20 سے 65 برس تک کے 39 افراد کی دن میں 3 مرتبہ خاص طرح سے ناک کو صاف کرایا اور دوسرے گروپ کو بھی یہ ورزشیں کرائی گئیں جب خراٹے لینے والوں کو یہ مشقیں کرائی گئیں تو ان کی 36 سے 59 فیصد تعداد کے برابر افراد کی خراٹیں کم ہوگئیں اور مجموعی طورپربہتری دیکھی گئی ۔

ماہرین کے مطابق ہر مشق کو اگر بہتر انداز میں صرف 2 منٹ کیا جائے اور ناک کو بھی بہتر انداز میں صاف کیا جائے تو خراٹوں سے کافی حد تک نجات پائی جاسکتی ہے۔

مشق نمبر ایک

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/127.jpg

زبان کی نوک تالو سے لگائیں اور نوک سے تالو کو رگڑتے ہوئے پیچھے تک لے جائیں۔

مشق نمبر دو

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/220.jpg

اپنی زبان کو تالو سے لگا کر چپکائیں  اور پوری زبان کو تالو سے لگائے رکھیں۔

مشق نمبر تین

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/310.jpg

اب زبان کو تصویر کے تحت نیچے کی جانب اس طرح چپکائیں کہ اس کی نوک اگلے دانتوں کو دبائے اور زبان کا پچھلا حصہ بھی نیچے لگا رہے۔

مشق نمبر چار

http://www.express.pk/wp-content/uploads/2015/05/49.jpg

اب انگریزی لفظ A ادا کرتے ہوئے حلق کے کا پچھلا اوپری حصہ اس طرح اٹھائیں کہ حلق کے درمیان لٹکا ’ قوا‘ بھی اُٹھ جائے۔

واضح رہے کہ ماہرین کی جانب سے یہ ورزشیں دنیا بھرمیں ایسے افراد کو بھی کرائی جاتی ہیں جنہیں نگلنے اور بولنے میں دقت پیش آتی ہے۔

Miracle Cure for Snoring:
Take a cup of warm milk and mix in a tsp of Turmeric powder. Drink it before bed.
Actually having this once keeps snore free for up to a week 

Ten Foods To Enhance Mental Abilities..... ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے والی دس غذائیں

آئیے جانتے ہیں 10 ایسی غذاوں کے بارے میں جن کے استعمال سے یاداشت میں بہتری لائی جاسکتی ہے،فوٹو فائل
ہم دن بھر جو کچھ کھاتے اور پیتے ہیں وہ خون میں شامل ہو کر ناصرف ہمیں توانائی فراہم کرتا ہے بلکہ ہماری غذا بلاواسطہ یا بالواسطہ دماغی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق چند غذاؤں کے باقاعدہ استعمال سے انسانی ذہنی کارکردگی میں 20 فیصد اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں 10 ایسی غذاوں کے بارے میں جن کے استعمال سے یاداشت میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
بیری:
ذہنی دباؤ اورغصے کے باعث انسان کا دماغ اپنی عمر سے پہلے ہی سٹھیانا شروع ہوجاتا ہے، بیریوں میں موجود قدرتی اجزا تکسیدی دباؤ کے خلاف کارگر ثابت ہوتے ہیں اوراشتعالی کیفیت کے سدباب کے طورپرکام کرتے ہیں۔  بیریوں کا اخروٹ اور ناشپاتیوں کے ساتھ استعمال، انسانی دماغ کے خلیوں کو جوان رکھتا ہے،  جس سے دماغی کارکردگی اور سوچنے کی صلاحیت میں بہتری آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
کیلا:
دماغ کی بہترین کارکردگی کے لیے خون میں گلوکوز کی مقدار کم از کم 25 گرام ہونا ضروری ہے اور کیلا ایسا پھل ہے جس میں گلوکوز کی مطلوبہ مقدار موجود ہوتی ہے جو دماغی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
انڈے: 
وٹامن بی یادداشت کو بہتر بنانے اور دماغ کی جانب سے ردعمل کے وقت کو بہتر بناتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انڈے وٹامن بی سے بھرپور ہوتے ہیں۔
دہی
دہی انسانی جسم کے لئے کیلشیم، حمیات اور وٹامنز فراہم کرنے کا ایک آسان اور بہترین طریقہ ہے- ان اجزا کی بدولت دماغی صلاحیتوں کو فراغ ملتا ہے۔
مچھلی:
مچھلی اومیگا تھری ، پروٹین ، فولاد اور وٹامن بی کا خزانہ ہوتی ہے جودماغ کے دہرانے کےعمل کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ  استدلال کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔
بینگن:
بینگن کا استعمال دماغ کے خلیوں اور پیغام رساں مالیکیولز کے درمیان رابطے کو بہتر بناتا ہے جس کےدماغ پر حیرت انگیز طور پرخوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔
سبز چائے:
سبز چائے کا استعمال انسان کے اعصابی طنام کو بہتر بنانے کا سبب بنتا ہے۔
کچی گاجر
کچی گاجروں کواپنی روز مرہ خوراک کا باقاعدہ حصہ بنانے سے خون میں شکر کی مقدار متوازن رہتی ہے جو آپ کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔
کافی:
کافی میں موجو د کیفین کا استعمال یادداشت اور آنکھوں پر اچھا اثرڈالتا ہے خصوصا ان لوگوں کے لیے جو گھنٹوں کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔
چاکلیٹ:
ڈارک چاکلیٹ کا استعمال ذہنی ارتکاز کو بہتر بناتا ہے، جب کہ دودھیا چاکلیٹ تصویری یاداشت، بولنے کی صلاحیت ، اور ردعمل میں بہتری لاتی ہے ۔