Friday, 24 July 2015

A few simple domestic prescription to control Blood Pressure.... بلڈ پریشر قابو میں رکھنے کے چند آسان گھریلو نسخے

 بلند فشارِخون یا بلڈ پریشر کا مرض ایک خاموش قاتل قرار دیا جاتا ہے جس میں خون کی رگوں پر خون کا دباؤ بڑھتا ہے جس کے نتیجے میں امراضِ قلب سمیت  فالج اور دیگر جان لیوا امراض جنم لیتے ہیں۔
طبی ماہرین ہائی بلڈ پریشر کو قابو کرنے کے لیے بعض گھریلواشیا تجویزکرتے ہیں جو قدرتی طور پر بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہیں اور آپ کو خطرناک امراض سے بچاتی ہیں لیکن ان اشیا کے استعمال سے پہلے اپنی معالج سے رجوع ضرور کریں تاکہ آپ کسی نقصان سے بچ سکیں۔
سرخ گوشت بمقابلہ سفید گوشت:
بلڈ پریشر کے مریض سرخ گوشت مثلاً گائے اور بکرے کے گوشت سے پرہیز کرتے ہوئے مرغی اور مچھلی استعمال کریں جنہیں سفید گوشت بھی کہا جاتا ہے جب کہ ایسے افراد مرغی اور مچھلی کے ساتھ سبزی کا زیادہ استعمال رکھیں جو ان کے لیے مفید ہے۔
لہسن:
لہسن میں موجود کئی قدرتی اجزا بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتے ہیں اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کو بھی کم کرتے ہیں لہٰذا اس کا استعمال بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
 شہد اور پیاز:
ایک کپ میں پیاز کے رس میں 2 چمچ شہد ملائیں اور اسے روز کا معمول بنائیں اس عمل سے آپ اپنے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔
کڑھی پتے:
کڑھی پتوں میں کئی بیماریوں کا علاج ہے۔ ایک کپ پانی میں 4 سے 5 کڑھی پتے ابالیں اور اسے پی لیں اس سے بہتر محسوس کریں گے۔
چقندر کا رس:
چقندر کا رس بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے اس لیے سلاد وغیرہ میں بھی چقندر کا استعمال بلڈپریشر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے جب کہ چقندر خون بنانے میں بھی مدرگار ثابت ہوتا ہے۔

Thursday, 9 July 2015

وہ غذائیں جو رکھیں آپ کو خوش اور موڈ بنائیں بہتر......Foods that make you happy and improves Mood

لندن:  اگر خوشی کا تعلق دل سے ہے تو اس کا تعلق دماغ سے بھی ہوتا ہے، دماغی افعال اور بعض کیمیکل ہمارے موڈ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہمیں خوشگوار احساس دلاتے ہیں۔
بیریاں:
اسٹرابری، رسبری اور بلوبیریوں کے جادوئی فائدے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ان میں ویلپروئک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو موڈ کو بہتر بناتا ہے۔ اس میں موجود بعض فلے وینوئڈز جسمانی جلن کو کم کرتے ہیں جوڈپریشن کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔
کیلے:
کیلوں میں پوٹاشیم موجود ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ اس میں ٹریپٹوفان ہوتا ہے جو دماغی افعال کو بہتر بناتے ہیں اور موڈ کو اچھا کرتے ہیں ۔ اس میں وٹامن بی فولیٹ بھی پایا جاتا ہے جس کی کمی موڈ کو برا کرتی ہے۔
ڈارک چاکلیٹ:
ڈارک چاکلیٹ میں اینٹی آکسیڈنٹس کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے ۔ اس میں تناؤ کم کرنے والا ایک ہارمون کارٹیسول بھی پایا جاتا ہے۔
سامن مچھلی:
سامن (salmon) مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز پایاجاتا ہے جو ڈپریشن کو کم کرتا ہے۔ اس کی صحتمند چکنائیاں بالوں کو مضبوط اور چمکدار بناتی ہیں۔
ہلدٰی:
برصغیر پاک و ہند میں ہلدی کا استعمال عام ہے۔ اس میں کرکیومن نامی ایک عنصر انسانی احساس کو خوشگوار بناتا ہے۔
سبزچائے:
جاپانی ماہرین کے مطابق روزانہ تین سے چار کپ سبز چائے پینے سے مایوسی اور ڈپریشن کے آثار بڑی حد تک ختم ہوجاتے ہیں۔
سیب کھائیں اور اداسی بھگائیں:
روزانہ ایک سیب جہاں آپ کو ڈاکٹر سے دور رکھتا ہے تو وہیں توانائی اور مسرت کا احساس بھی دلاتا ہے۔ لہٰذا سیب کھایئے اور اداسی بھگائیے۔
پالک:
پوپائے کارٹون پالک کھاکر توانائی حاصل کرتا تھا لیکن اس میں موجود فولک ایسڈ یاسیت کو کم کرتا ہے اور چہرے کو بھی صاف و خوبصورت رکھتا ہے۔
پھلیاں:
امریکا میں محکمہ زراعت کی تحقیق کے مطابق پھلیوں میں موجود میگنیشیئم آپ کو خاص توانائی فراہم کرتا ہے اور آپ کے ہر احساس کو خوشگوار بناتا ہے۔
اخروٹ:
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے مطابق اخروٹ دماغ کو بہتر رکھتا ہے اور ساتھ ہی اس میں وٹامن، معدنیات اور الفالائنولینک ایسڈ ہوتے ہیں جو دماغ میں خاص کیمکل کا اخراج کرتے ہیں اور آپ پرسکون رہتے ہیں۔
نارنگی:
نارنگیوں میں موجود وٹامن سی جلد کی خشکی کو دور کرنے کے علاوہ دماغی افعال اور یادداشت کو بہتر بناتے ہیں۔ اگر دو ماہ تک ایک گلاس اورنج جوس پیا جائے تو اس سے بہت سے دماغی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

Six Simple Ways to make Teeth White and shiny like Pearls......دانت موتی کی طرح سفید اورچمکدار بنانے کے 6 آسان طریقے

لندن: کہتے ہیں ایک خوبصورت مسکراہٹ انسان کے چہرے کی خوبصورتی میں کئی گنا اضافہ کردیتی ہےاورمسکراہٹ کو دلکش بنانے میں سفید اور چمکدار دانت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں تاہم دانتوں کی صحت برقرار رکھنے کے لئے ان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کی اکثریت دانتوں کو درکار توجہ دینے میں ناکام رہتی ہے جس کی وجہ سے دانتوں کی صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں،ماہرین نے دانتوں کی صفائی کے لئے چند اہم تجاویز دی ہیں جن پر عمل کرکے دانتوں کی صحت کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
برش کرنے کا صحیح طریقہ:
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 3 میں سے ایک فرد صبح دانتوں میں برش نہیں کرتا جبکہ اکثریت غلط طریقے سے برش کرتی ہے جس کی وجہ سے منہ کی خاطر خواہ صفائی نہیں ہوپاتی۔ ماہرین کے مطابق اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کیا جانے والا برش ذیادہ پرانا نہ ہو اور ہر 3 ماہ بعد برش تبدیل کرلیا جائے جبکہ دانت صاف کرتے ہوئے برش کو اوپر نیچے رگڑنے کے بجائے 45 ڈگری کے زاویے میں سیدھا کیا جائے اور دانتوں کے تمام حصوں پر برش کیا جائے اس طرح دانتوں میں موجود بیکٹیریا کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
چیونگم زیادہ دیر چبانے سے پرہیز:
چیونگم کھانے سے منہ کا ذائقہ وقتی طور پرخوشگوار ہوجاتا ہے تاہم زیادہ دیر تک چیونگم چبانا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونگم 10 منٹ سے زیادہ چبانا ٹھیک نہیں اور ذائقہ ختم ہوجانے کے بعد اسے پھینک دینا چاہیئے کیونکہ یہ دانتوں کی صحت کے لئے بالکل بھی ٹھیک نہیں کیونکہ دانتوں کی ساخت چیزوں کو توڑنے کے لئے بنائی گئی ہے جبکہ چیونگم لچکدار ہوتی ہے اور زیادہ چبانے کی وجہ سے دانتوں میں ٹوٹ پھوٹ ہوسکتی ہے۔چیونگم چبانے کے دوران ہمارا معدہ ایک قسم کا تیزاب پیدا کرنا شروع کردیتا ہے جو کہ غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے تاہم جب غذا معدے میں نہیں جاتی تو اس کے مضر اثرات معدے کے السر کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔
اسٹرابری اور میٹھے سوڈے کا استعمال:دانتوں کو چمکدار بنانے کے لئے قدرتی طریقے سب سے بہترین اور کارآمد ہوتے ہیں،اسٹرابری اور میٹھا سوڈا اس حوالے سے بہترین نتائج کے حامل ہیں۔ماہرین نے یہاں ایک نہیات کارآمد ٹوٹکا بتایا ہے ۔ 8 عدد اسٹرابری  اور آدھا چمچ میٹھا سوڈا لے کر ان کا پیسٹ بنا لیں اور روئی کا ٹکڑا لے کر دانتوں پر اچھی طرح ملیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کے دانت چمکدار ہوجائیں گے بلکہ سگریٹ ،چائے اور کافی کی وجہ سے دانتوں پر بننے والے دھبے بھی ختم کیے جاسکتے ہیں،اسٹرابری میں پائے جانے والے خاص اجزا دانتوں کو چمکدار بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ناشتے کے بعد دانتوں کی صفائی:
لوگوں کی اکثریت صبح سویرے کچھ بھی کھانے یا پینے سے پہلے برش کرنا پسند کرتی ہے اور یہ صحت کے لئے بھی مفید ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ کھانے یا پینے کے بعد برش کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب آپ نے میٹھی چیزیں کھائیں ہوں۔اس طرح دانت نہ صرف کیڑا لگنے سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ ان کی مضبوطی بھی برقرار رہتی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ رات کو سونے سے قبل سب سے آخری کام دانتوں کی صفائی ہونا چاہیئے اور اس کے بعد کچھ بھی کھانے یا پینے سے(سوائے پانی کے) پرہیز کرنا چاہیئے ۔اس طرح رات بھر دانت بیکٹیریا لگنے سے محفوظ رہتے ہیں اور دانتوں کا انیمل یا اوپری پرت بھی محفوظ رہتی ہے۔
زبان کی صفائی:صاف اورمہکتی سانس کے لیئے زبان کا صاف ہونا انتہائی ضروری ہے جبکہ لوگوں کی اکثریت زبان کی صفائی کا خیال ہی نہیں رکھتی،زبان پر برش کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس پر بیکٹریا بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں اور انہی چھپے ہوئے بیکٹیریا کی وجہ سے منہ سے بدبو بھی آنے لگتی ہے۔ دانتوں کی صفائی کے دوران زبان پر بھی برش کرنے سے اس مسئلے سے کافی حد تک نجات پائی جاسکتی ہے جبکہ زبان کی صفائی کے  خصوصی طور پر بنایا گیا آلہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
دانتوں میں خلا ل کرنا:ماہرین دانتوں میں خلا ل کرنے کے عمل کو بھی صحت کے لئے بہترین عمل قرار دیتے ہیں اور اس سے نہ صرف دانتوں کی بہتر طریقے سے صفائی ہوجاتی ہے بلکہ اس سے حیرت انگیز طور پردل کے امراض کے بچاؤ میں بھی مدد ملتی ہے۔دانتوں میں خلال کرنے سے غذا کے پھنسے ہوئے ٹکڑے  جو کہ بیکٹیریا کی افزائش میں مددگار ثابت ہوتے ہیں نکل جاتے ہیں۔برٹش ڈینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر نائجل کارٹر کا کہنا ہے کہ خلال کرنا دانتوں کی صحت مندانہ روٹین کا ایک اہم حصہ ہے اور دانتوں کو برش کرنے سے قبل دن میں کم از کم ایک مرتبہ خلال کرنا ضروری ہے۔ تاہم دانتوں کے درمیان خلا کی صفائی کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور اس کے لیے دانتوں کے لیے خلال کرنے والا مناسب آلہ استعمال کرنا چاہیے کیونکہ کسی غیر معیاری چیز سے یا پھر تیزی سے دانتوں میں خلال کرنے سے مسوڑھوں کے عضلات کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہناہے کہ اگر ان باتوں پر عمل کرلیا جائے تو دانتوں کو صاف اور کیڑا لگنے سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے تاہم اس کے ساتھ ضروری ہے کہ میٹھی چیزوں کے استعمال میں اعتدال کا رویہ اپنایا جائے۔

Tuesday, 7 July 2015

Seven Reasons That Cause Depression in Children.... بچوں میں ڈپریشن کا باعث بننے والی 7 وجوہات

برلن: دنیا بھرمیں ڈپریشن کی وجہ سے بچوں اورنوعمرافراد میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جو کسی خطرناک المیے سے کم نہیں، بچوں اورنوعمرافراد کواس خطرناک مرض ڈپریشن سے بچانے کے لیے کچھ عوامل پرغورکرنا پڑے گا جس کے باعث وہ ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں۔
کارکردگی میں بہتری کے لیے دباؤ:
اسکولوں میں امتحانات اورروزمرہ ٹیسٹ کے حوالے سے بچوں پربہت زیادہ دباؤ بڑھتا ہی جارہا ہے جوان کی خوداعتمادی کو نقصان پہنچا رہی ہے،موجودہ طرززندگی میں اسکول اورکھیل کود کے میدان اورزندگی کے دیگرشعبوں میں بچوں پربڑھتے ہوئے اثرات انکے لیے نہایت خطر ناک ہیں،بچے بہترسے بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے دباؤ کا شکارہورہے ہیں جہاں گھرواپس آکربھی انہیں ڈھیروں ہوم ورک کرنا ہوتا ہے۔
گھریلو جھگڑے اورانتشار:
جرنل آف میرج اینڈ فیملی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق والدین میں علیحدگی کے باعث بچوں کوڈپریشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے جہاں کسی بھی گھراورخاندان میں والدین اوردیگراہل خانہ کے درمیان مسلسل ہونے والے جھگڑوں یا بالخصوص طلاق کا بچوں پرانتہائی برااثرپڑتا ہے۔
کھیل کود میں کمی اورمحدود سرگرمیاں:
بچوں کی جسمانی نشوونما میں غیرنصابی سرگرمیاں اورکھیل کود کا کرداربہت اہم ہوتا ہے۔ کھیل کود اور جسمانی حرکت سے دماغ ترق تازہ بھیرہتا ہے اوراس کی افزائش بھی ہوتی ہے اس سے بچوں کو مسائل حل کرنے اوراپنی صلاحیت بڑھانے کا موقع ملتا ہے۔ بچوں میں ذہنی بیماریوں کے ماہر پیٹرگرے کا کہنا ہے کہ کم کھیل کود سے بچوں میں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت میں کمی آتی ہے۔
انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز:
امریکی طبی جریدے ’امیرکن جرنل آف انڈسٹریل میڈیسن‘ کے مطابق وہ بچے جو دن میں پانچ گھنٹے سے زیادہ کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کھیلتے ہیں یا ٹیبلٹ اوراسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، ان کے ڈپریشن کا شکار ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے جس کا رجحان جدید ٹیکنالوجی کے باعث دنیا بھرمیں بڑھتا جارہا ہے۔
چینی کا زیادہ استعمال:
بچوں کی پسند میں ٹافیاں، کیک، مٹھائیاں اور کاربونیٹڈ ڈرنکس وغیرہ شامل ہوتے ہیں ان مٹھائیوں کی وجہ سے ان میں چینی کا استعمال بڑھ جاتا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کی زیادہ مقدارڈپریشن کا باعث بن سکتی ہے اوریہ دماغ کی نشوونما سے متعلق ہارمونزکو بھی متاثرکرتی ہے۔
اینٹی بائیوٹکس کا استعمال:
کینیڈا کی میک ماسٹریونیورسٹی کے محققین نے چوہوں کو اینٹی بائیوٹک ادویات دے کران پرتجربہ کیا ان کی تحقیق کے مطابق چوہے بے چینی کا شکار ہوجاتے ہیں اوردماغ کا وہ حصہ متاثرہوتا ہے جو جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔
ٹاکسن یا نباتاتی زہرسے بچیں:
فصلوں میں استعمال ہونے والی کیمیائی ادویات، صفائی کے لیے استعمال ہونے والا مواد، کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ اور گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور آلودگی جسم کو بری طرح متاثر کررہی ہیں اور یہ زہریلے عناصر بچوں میں بھی بے چینی اورڈپریشن جیسے مسائل بڑھا رہے ہیں۔

Monday, 6 July 2015

Give Immediate Relief to Various Diseases / Illness With Easy domestic Prescription / ے


ایک چمچہ آملہ پاوڈر کو ایک گلاس دودھ کے ساتھ پینے سے بلڈ پریشر فوری طور پر نارمل ہوجاتا ہے۔
گھریلو نسخے نہ صرف کئی بیماریوں میں فوری آرام دیتے ہیں بلکہ پرانی بیماریوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں اسی لیے چند ایسے گھریلو نسخوں کے ذریعے آپ کئی بیماریوں سے فوری طور پر نجات حاصل کرسکتے ہیں۔
شدید سر درد میں:  جب آپ سرمیں شدید درد محسوس کریں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک سیب کو چھیل کر اسے اچھی طرح چوپ کرلیں اوراس کچھ نمک ڈال کر کھالیں اس نسخے کو اگر صبح نہارمنہ استعمال کیا جائے تو بہتر نتائج ملتے ہیں۔
گلے کی خرابی: تلسی کے 3 عدد پتوں کو پانی میں ابال لیں اور کچھ دیر کے لیے ہلکی آنچ پر پکنے دیں اس جوس سے غرارے کریں آپ کو گلے کی تکلیف میں فوری آرام ملے گا۔
پیٹ میں گیس کا علاج: چوتھائی چمچہ کھانے کا سوڈا کو ایک گلاس پانی میں ڈال کر پی لیں آپ جلد ہی آرام محسوس کریں گے۔
منہ کا السر: منہ میں چھالوں کا نکلنا یا پھر السر کا ہونا تکلیف دہ بیماری ہے لیکن ایک کیلے اور شہد کا پیسٹ بنا کر متاثرہ حصوں پر لگادیں فوری آرام ملے گا۔
ناک کی ہڈی یا گوشت کا بڑھ جانا:  عام طور پر اس بیماری میں سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے لیکن ایک سیب کا سرکہ لیں اور ایک چٹکی پسی سرخ مرچ میں ملا لیں اور پھر اس آمیزے کو آدھا کپ گرم پانی میں ڈال کر پینے سے فوری آرام ملتا ہے جب کہ مزید بہتر نتائج کے لیے دن میں 2 بار استعمال کریں۔
ہائی بلڈ پریشر: آج کل ہر کوئی ہائی بلڈ پریشر کی بیماری کا شکار نظر آتا ہے ایسے میں ایک چمچہ آملہ پاوڈر کو ایک گلاس دودھ کے ساتھ پینے سے بلڈ پریشر فوری طور پر نارمل ہوجاتا ہے۔
دمہ کی بیماری کا علاج: ایک چمچہ شہد کو ایک چمچہ دارچینی کے پاؤڈر کے ساتھ ملا کر رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔
بالوں کا گرنا: کافور کو ناریل کے تیل کے ساتھ ملا کر سونے سے قبل بالوں پر لگائیں آپ کو جلد بالوں کے گرنے سے نجات مل جائے گی۔
بالوں کا وقت سے قبل سفید ہوجانا: خشک آملہ کو کاٹ کر ناریل کے تیل میں اچھی طرح پکالیں یہاں تک کہ آملہ مٹی کی طرح ہوجائے پھراس آمیزہ کو روزانہ سونے سے قبل بالوں میں لگالیں۔
چہرے پر سیاہ داغ: اورنج جوس کو گلیسرین کے ساتھ ملا کر چہرے پرلگانے سے ایک طرف تو سیاہ داغ ختم ہوجاتے ہیں بلکہ رنگ بھی صاف ہوجاتا ہے۔

Want stay fit n Healthy than use Fresh Fruits and Vegetables 'Smoothie' ....فٹ رہنا ہے توتازہ پھلوں اورسبزیوں سے بنا ’’سمودی‘‘ استعمال کریں

سمودی سے بیماریوں کے خلاف جسمانی مدافعت بھی بڑھتی ہے،فوٹو فائل
برلن: مختلف ڈرنکس کے شوقین افراد طرح طرح کی ڈرنکس سے مزہ لیتے ہیں لیکن وہ افراد جو موٹاپے کا شکار ہیں خاص طور پر نوجوان انرجی ڈرنکس کے مقابلے’سمودی‘ جیسی ہیلتھ ڈرنک استعمال کرکے اپنے وزن میں خاطر خواہ کمی لاسکتے ہیں۔ 
سمودی بنانے کا طریقہ:
سمودی بنانا انتہائی آسان ہے اپنے من پسند پھل اورسبزیاں اچھی طرح بلینڈ کریں اورپسند ذائقے کے مطابق آپ اس میں دھنیا، پودينا، ادرک یا پھر شہد بھی شامل کر کے اسے مزید صحت بخش بنا سکتے ہیں جسے آپ 2 دن تک فرج میں بھی رکھ سکتے ہیں۔
مناسب غذا:
سمودی میں پروٹین اورکئی طرح کے وٹامن دیگر اہم غذائی عناصر ہوتے ہیں، جس سے آپ کا پیٹ بھی بھرجاتا ہے۔ یہ وزن میں کمی کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے،تازہ پھلوں اورسبزیوں سے بنا یہ ڈرنک آپ کو مکمل غذا فراہم کر سکتا ہے۔
رنگ برنگے سمودی ڈرنک:
مارکیٹ میں بھی کئی طرح کے سمودی مشروب دستیاب ہیں جوآپ گھرپرخود بھی بنا سکتے ہیں تو اپنے ذائقے کے مطابق آپ انہیں خرید بھی سکتے ہیں دوسری ڈرنکس کے مقابلے میں گھر یا دفترمیں دوپہرکے کھانے کی جگہ سمودی ڈرنک ایک اچھا متبادل ہے اورفائدے مند ہے۔
گرین سمودی:
سمودی میں سبزیاں جیسے کہ كھيرا، پودینہ، گوبھی اورپالک وغیرہ بھی ڈالی جاتی ہیں جبکہ سیب اور کیلے جیسے پھل بھی ملائے جا سکتے ہیں۔ خاص طورپرورزش سے پہلے اسے پینا کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔
فوائد:
پھلوں اورسبزیوں سے بنے مشروب سمودی میں اینٹی آکسیڈنٹ موجود ہوتے ہیں جو ہمارے خلیوں کو نقصان سے بچاتے ہیں ان کی وجہ سے جسم میں موجود زہریلے مادے نکل جاتے ہیں اورپیٹ بھی صاف ہوتا ہے جس کا نتیجہ جلد میں نکھار اوروزن میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے جبکہ بیماریوں کے خلاف جسمانی مدافعت بھی بڑھتی ہے۔

Wednesday, 10 June 2015

Few Foods Which Need To Be Part of Our Diet....وہ چند غذائیں جن میں سے ایک کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ضروری ہے

عام تاثر ہے کہ چکنائی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے تاہم ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ چکنائی کی ایک خاص مقدار جسمانی صحت اور جلد کے لئے مفید ہوتی ہے۔
چکنائی سے بھرپور اشیا دل کے امراض کا باعث بن سکتی ہیں لیکن چکنائی کی خاص مقدار کا استعمال دل کی بیماریوں سے حفاظت کا باعث بھی بنتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق کسی بھی شخص کو کم چکنائی والی اشیا سے دن میں 20 سے 35 فیصد کیلریز درکار ہوتی ہیں جب کہ ایک تندرست انسان چکنائی سے بھرپوراشیا سے 10 فیصد سے کم کیلریز لیتا ہے۔ تندرست اور موٹاپے سے نجات کے لئے اگر درج ذیل 6 اشیا میں سے کسی بھی ایک کا روزانہ استعمال کیا جائے تو آپ خود کو پرکشش اور تندرست رکھ سکتے ہیں۔
بادام : کیلریز کے اعتبار سے بادام ایک مفید غذا ہے اور ایک اونس بادام کا روزانہ استعمال آپ کو 14 گرام چکنائی دیتا ہے جو دن بھر کی جسمانی ضرورت کے لئے کافی ہے۔
ناشپاتی : آدھا ناشپاتی اپنے اندر 15 گرام تک چکنائی رکھتا ہے اس لئے ناشپاتی کا استعمال دن بھر کی ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مچھلی : جسم میں چکنائی کی مقدار پوری کرنے کے لئے مچھلی سب سے مفید غذا ہے اس لئے ہفتے میں ایک بار مچھلی کا استعمال آپ کو جسمانی طور پر چست رکھ سکتا ہے۔
انڈا : ایک انڈے میں 5 گرام تک چکنائی ہوتی ہے جو جسم کو 45 کیلریز فراہم کرتا ہے اس لئے انڈے کا استعمال جسم کو مطلوب کیلریز فراہم کرتا ہے۔
السی : السی کا ایک چائے کا چمچہ آپ کو 4 گرام تک چکنائی فراہم کرتا ہے جس میں 36 کیلریز ہوتی ہیں۔ اس طرح السی کا ایک چائے کا چمچہ جسم کو درکار چکنائی کے لئے کافی ہے۔
زیتون کا تیل : زیتون کا تیل یا کم از کم 10 زیتون جسم کو 5 گرام تک چکنائی کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔
انسانی جسم کو روزانہ درکارکیلریز کا پیمانہ کچھ اس طرح ہے، ایک گرام چکنائی میں کیلریزکی مقدار9 ہوتی ہے اور دن بھر میں ایک تندرست شخص کو 2 ہزارکیلریز درکارہوتی ہیں جو 44 سے 78 گرام تک چکنائی والی اشیا سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔