Wednesday, 3 June 2015

Yoghurt: Summer's Best Diet ....گرمیوں کی بہترین غذا ’’دہی‘‘

فوٹو: فائل
دہی کیلشیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسی لیے وہ لوگ جو دودھ پینا پسند نہیں کرتے، ماہرین ان کو دودھ کے بہترین نعم البدل دہی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
توانائی سے بھرپور دہی طبی لحاظ سے بھی خاصی مفید اثرات کی حامل ہے۔ دہی ہمارے نظام ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے۔ بالخصوص گیس اور بدہضمی میں خاصی فائدہ مند ہے۔ دہی بچوں کو بنیادی غذائیت مہیا کرتی ہے۔ بچوں کی نشوونما میں خاصا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مدافعت کے نظام کو بہتر بناتی ہے۔ اس کے علاوہ بے خوابی کا بھی بہترین علاج ہے۔ دہی کی چھاچھ گرمی کی دوپہر میں گرمی کی شدت اور لو لگنے سے بچاؤ کے لیے بہترین ہے۔ اس کے علاوہ میٹھی اور نمکین لسی گرمی کے موسم میں بہترین غذائیت سے بھرپور مشروب ہے، جو گرمی کی شدت کو کم کر کے ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ بچوں کو دہی کھلانے کے لیے دہی میں چینی یا شہد یا مختلف پھلوں کے ٹکڑے شامل کیے جا سکتے ہیں۔ دہی سے آپ مختلف مزے دار پکوان بھی بنا سکتی ہیں۔
جلد کے لیے بھی دہی بہترین ہے۔ گرمیوں میں سورج کی حدت سے عموماً جلد جھلس سی جاتی ہے اور جسم کے کھلے ہوئے حصوں کی جلد متاثر ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایلوویرا کا پتے کا ٹکڑا لیں اس کو چھیل کر اس کا جیل پیالی میں نکال کر اچھی طرح کچل لیں۔ پھر اس میں دہی ملاکر متاثرہ جلد پر لگائیں، جلد ہی افاقہ ہوگا۔
دہی میں شہد اور چٹکی بھر ہلدی ملا کر چہرے پر ملیں، اگر ساتھ تھوڑی سی دودھ کی بالائی بھی شامل کر دی جائے، تو رنگت بے حد صاف ہو جائے گی۔ اب اس ماسک کو چہرے پر لگائیں کچھ دیر بعد پانی سے دھولیں۔
دہی کو گھرپر با آسانی جمایا جا سکتا ہے۔ نیم گرم دودھ میں ایک سے دو چمچے دہی ملا کر برتن پر ڈھکن ڈھک کر کسی گرم جگہ مثلاً چولھے کے پاس یا اوون میں رکھ دیں۔ چند گھنٹوں میں بہترین دہی جم جائے گی۔ دہی سے ہی چند ذائقے دار تراکیب درج ذیل ہیں۔
دہی کی آئس لولی
اجزا:
دہی (ایک پاؤ)، اسٹرابیری یا آم (آدھی پیالی)، چینی (دو چمچے)
ترکیب:
دہی میں چھلے ہوئے یا کٹے ہوئے پھل اور چینی ڈال کر بلینڈ کرلیں پھر پلاسٹک کے چھوٹے کیس میں ڈال کر جما دیں۔ آدھے گھنٹے بعد فریزر سے نکال کر شاسلک اسٹک ڈال کر دوبارہ جما دیں۔ چند گھنٹوں میں لذیذ دہی کی آئس لولی تیار ہوگی۔ دہی کی آئس لولی جب جم جائے، تو پیالی یا گلاس یا سانچے سے نکال کر پلیٹ میں ڈالیں اس پر لال شربت ڈال کر پیش کریں۔
اس میں حسب پسند کوئی بھی پھل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بچے یا اہل خانہ پھل کا ذائقہ پسند نہیں کرتے، تو دہی میں صرف چینی ڈال کر تھوڑی سی کریم شامل کر کے پھینٹیں اور جمانے رکھ دیں۔ چینی کی مقدار بڑھا دیں۔
فروزن فروٹ
اجزا:
دہی (ایک پاؤ)، کریم (تین چمچے)، چینی (دو چمچے)، اسٹرابیری، انگور اور بلیو بیری، (تمام پھل ملاکر ڈیڑھ پیالی)
ترکیب:
دہی میں کریم اور چینی ملا کر پھینٹ لیں، پھر تمام پھلوں کو اس دہی میں ڈبوکر پلیٹ میں رکھ کر جمالیں۔ انگور کے دانوں کو ٹوتھ پک یا شاسلک اسٹک میں لگا کر پھر دہی میں ڈالیں اور پھر جما دیں پلیٹ میں رکھ کر گرمی کے دنوں میں یہ فروزن فروٹ کھانے کے بعد بہترین میٹھا ہے اور بچوں کی بے وقت کی بھوک کا بھی بہترین حل ہے۔
بیکڈ چکن
اجزا:
مرغی کا گوشت (آدھا کلو)، دہی (ایک پاؤ)، پسا ہوا ادرک لہسن (ایک کھانے کا چمچا)، نمک (ایک کھانے کا چمچا)، پسی ہوئی لال مرچ (دو چائے کے چمچے)، لیموں (ایک عدد)، زردے کا رنگ (چٹکی بھر)، تیل (حسب ضرورت)
ترکیب:
دہی میں پسے ہوا ادرک لہسن، نمک، پسی ہوئی لال مرچ، لیموں کا رس اور زردے کا رنگ شامل کر کے اچھی طرح پھینٹیں۔ اس کے بعد مرغی کے گوشت کی چھوٹی بوٹیاں بنا کر اس میں شامل کریں۔ ملا کر کانٹے کی مدد سے گوشت کو گودیں تاکہ مسالا گوشت کے اندر تک لگ جائے۔ دو گھنٹے کے لیے فریج میں رکھ دیں، پھر بیکنگ ٹرے پر چند قطرے تیل کے ڈال کر اچھی طرح پھیلا لیں۔۔۔ اس کے بعد مرغی کا آمیزہ اس پر ڈال کر اوون میں 150 ڈگری پر پکنے رکھ دیں۔ کچھ دیر بعد ڈش کو نکال کر بوٹیوں کو پلٹ دیں اور دوبارہ پکنے رکھ دیں۔ کچھ دیر یہ میں تیار ہو جائے گا، لذیذ بیکڈ چکن سلاد رائتے اور نان کے ساتھ تناول فرمائیں۔
اگر اوون دست یاب نہ ہو تو آپ اسی ترکیب سے فرائینگ پین میں بھی بنا سکتی ہیں۔ اگر باربی کیو کا ذائقہ دینا چاہیں، تو جب بیکڈ چکن تیار ہو جائے تو کوئلے کا دم دے دیں۔
دہی کی کڑھی
اجزا:
دہی (ایک پاؤ)، بیسن کا آٹا (ایک پیالی)، ہلدی (ایک چائے کا چمچا)، تیل (آدھی پیالی)، پیاز (ایک عدد)، میتھی (ایک چھوٹی گٹھی)، کڑی پتے (چند عدد)، ٹماٹر (چار عدد)، نمک (حسب ذائقہ)، پسی ہوئی لال مرچ (حسب ذائقہ)، رائی کے دانے (آدھا چائے کا چمچا)
ترکیب:
دہی میں بیسن کا آٹا اور آدھا چائے کا چمچا، ہلدی ملا کر پھینٹ لیں۔ تین سے چار گلاس پانی شامل کردیں اچھی طرح پھینٹیں دیگچی میں تیل گرم کر کے کڑی پتے، میتھی کے پتے، رائی کے دانے ڈالیں۔ اس کے بعد تھوڑا سا چمچا چلائیں اور کٹی ہوئی پیاز ڈال دیں۔ جب پیاز سنہری ہو جائے تو کٹے ہوئے ٹماٹر، لال مرچ، نمک اور بقیہ ہلدی ڈال کر بھون لیں، پھر دہی کی لسی ڈال کر اچھی طرح ملا لیں اور پکنے دیں۔ جب پک جائے تو پکوڑے شامل کر کے چاولوں کے ساتھ پیش کریں۔
رائتہ سلاد
اجزا:
دہی (ایک پاؤ)، ہرا دھنیا (آدھی گٹھی)، ہری مرچ (دو سے چار عدد)، نمک (حسب ذائقہ)، پیاز (ایک عدد چھوٹی)، کھیرا (ایک عدد)، گاجر (ایک عدد)۔ کٹی ہوئی بند گوبھی (آدھی پیالی)
ترکیب:
دہی میں ہرا دھنیا، ہری مرچ، نمک ملاکر پیس لیں۔ بلینڈ کرلیں تمام سبزیاں چھیل کر باریک کاٹ لیں۔ سبزیوں کو دہی کے رائتے میں اچھی طرح ملاکر فریج میں ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں۔ کھانے کے ساتھ یہ لذیذ رائتہ سلاد کھانے کے ذائقے کو دو بالا کردے گا۔ دہی کایہ رائتہ سلاد بے حد صحت بخش بھی ہے۔

Saturday, 23 May 2015

Control Sugar / Diabetes With Easy to Domestic Prescriptions....شوگر کو کنٹرول کرنے کے آسان گھریلو نسخے

دنیا بھر میں لوگوں کی اکثریت شوگر کی بیماری کا شکار ہے جب کہ شوگر صرف خود ایک بیماری نہیں بلکہ اس سے بلڈ پریشر، اندھا پن، گردے، دل کی بیماریاں، شریانوں کو نقصان اسٹروک اور کوما جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں لیکن چند گھریلو نسخے استعمال کر کے ذرا سی محنت اور توجہ سے گھر بیٹھے اس بیماری کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
قدرتی کچی غذائیں: چند قدرتی غذائیں ایسی ہیں جن کو اگر کچا کھایا جائے تو یہ شوگر کا بہترین علاج ہے ان غذاؤں میں پھل، جوسز، نٹس اور سبزیاں شامل ہیں جن میں قدرتی طورپر انزائم اور فائبر موجود ہوتا ہے جو جسم میں شوگر کو رفتہ رفتہ جذب کرتا ہےجس کے نتیجے میں بلڈ پریشر لیول متوازن رہتا ہے۔ سیب، آڑو، بیر، گاجر، لیموں اور اورنج میں حل پذیرفائبر بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جو کہ بلڈ پریشر کے ساتھ کولیسٹرول لیول کو بھی متوازن رکھتا ہے۔
ورزش: ورزش اور پیدل چلنے سے نہ صرف شوگر بآسانی کنٹرول کی جاسکتی ہے بلکہ اس کی شدت کو طویل عرصے تک روکا جا سکتا ہے۔ ورزش سے وزن کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے جب کہ یہ جسم میں انسولین کی حساسیت کو بڑھا دیتی جو ٹائپ 2 شوگر کی وجوہات کو ختم کرتی ہے جب کہ اس سے بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔
مراقبہ کے عمل سے: مراقبے کا عمل جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت کو کم کرتا ہے جب کہ کولیسٹرول اور ایڈری نا نائل نامی ہارمونز کو بڑھا دیتا ہے جو جسم سے انسولین اور گلوکوز کا لیول بڑھا جاتا ہے ان ہی ہارمونز کا استعمال کرتے ہوئے گلوکوز اور انسولین کو توازن میں رکھا جاتا ہے۔
تلسی کے پتے: ان پتوں میں خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کی بھر پور صلاحیت ہوتی ہے کیوں کہ ان پتوں میں اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتا ہے جو آکسی ڈیٹیو اسٹریس لیول کو کم کرتا ہے جو کہ شوگر کا باعث بنتا ہے۔
ناگ پھنی اور السی کے بیج: ناگ پھنی کا جوس خون کی شوگر کو کم کرتا اور انسولین کے لیول کو بڑھا دیتا ہے جب کہ السی کے بیج پوسٹ پینڈیل شوگر کے لیول کو 28 فیصد تک کم کردیتی ہے۔
بلبیری کے پتے اور دارچینی: بالبیری کے پتے شوگر کو لیول کم کرنے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں جب کہ مسلسل ایک ماہ  تک دار چینی کا استعمال بھی خون میں شوگر کو قابو میں مدد کرتا ہے۔
سبز چائے کا استعمال: سبز چائے کے پتوں میں فائبر موجود ہوتا ہے جو کھانے کے ٹوٹنے کے عمل کو آہستہ کردیتا ہے جو شوگر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسپغول کے ذریعے: اسپغول کوعام طور پر قبض کشا سمجھاجاتا ہے اور جب اسے پانی میں حل کیا جاتا ہے تو پھول کر جیلی کی شکل اختیار کرلیتا ہے جو گلوکوز کے جذب ہونے کے عمل کو آہستہ کردیتا ہے جب کہ اسپغول شوگر میں استعمال ہونے وال ڈرگ میٹفورمن کے مضر اثرات کو بھی ختم کرتا ہے۔
مالش کے ذریعے: مالش جسم میں موجود انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو بڑھاتی ہے جب کہ مالش سے پینکریاز اور ہارمونیل سسٹم کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔
کریلے کے چھلکے اور لوکی: ان میں انسولین پولی پیپ ٹائیڈ پی بناتے ہیں جو شوگر کو کنٹرول کرنے میں بے حد مفید ہیں۔ لوکی سے چائے، کئی ڈشز سالن اور سوپ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
نیم کے تازہ کونپلیں: نیم کے تازہ پتوں کے جوس کو نہار منہ استعمال سے شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بنولہ کے بیج: بنولہ کے بیج میں قدرتی طور پر اینٹی آکسیڈینٹس بوریج تیل موجود ہوتا ہے جو خون میں موجود شوگر کے لیول کو کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔

Nail Polish Increases The Risk of Cancer ...ناخن پالش سے کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں،

کیلیفورنیا: خواتین عام طور پر اپنے چہرے اور ناخن کی خوبصورتی کے لیے مصنوعی کریموں اور ناخن پالش کا استعمال کرتی ہیں جس سے عارضی خوبصورتی تو مل جاتی ہے لیکن طبی طور پریہ مصنوعات صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ ایک تحقیق کے مطابق ہاتھوں کی خوبصورتی بڑھانے والی ناخن پالش انسان کو کینسر جیسی خوفناک بیماری میں بھی مبتلا کرسکتی ہے۔
امریکا میں ناخن پالش پر کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ناخن پالش میں موجود کیمیکل میں زہریلے عنصر پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتے ہیں  جس سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیلیفورنیا کی اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ناخن پالش میں موجود کیمیکل کینسر سے لے کر تولیدی عمل میں پیچیدگیوں جیسی بیماریوں کو جنم دیتا ہے کیونکہ ناخن کیئر مصنوعات میں زہریلے اور خطرناک اجزا موجود ہوتے ہیں جو کہ کینسر پیدا کرنے والے مرکب فارمیلڈی ہائیڈ اور دیگر اجزا کی پیدائش کرتا ہے اور یہ جسم کے ہارمونز کے نظام کو تباہ کردیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تین زہریلے عناصرٹولیون، فارمیلڈی ہائڈ اور فیتھا لیٹ انسانی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرتے ہیں جب کہ اس سے بیوٹی پارلرپرکام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ بیوٹی پارلرز میں ان کیمیکل  سے نکلنے والے بخارات کے اخراج کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا جس سے ان کیمیکل کے اثرات کمرے میں ہی رہ جاتے ہیں اورہوا کے ذریعے کام کرنے والے افراد کے سانس سے جسم میں داخل ہوکر جلد، آنکھوں، سانس، سر کا درد اور الرجی جیسی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ناخن پالش میں ان تین زہریلے اجزا کے علاوہ کچھ اور خطرناک کیمکل بھی موجود ہوتے ہیں جب کہ ٹولیون وہ جز ہے جو ناخن پالش کو چمک دیتا اور اس کے رنگ کو بحال رکھتا ہے لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ یہ عنصر مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے جو تولیدی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک ان مصنوعات سے ایسی بیماریوں کے علاوہ تولیدی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں جن میں اچانک اور وقت سے پہلے بچے کی پیدائش کے ساتھ کم وزن کے بچے کی پیدائش جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے اس لیے خواتین کو ناخن پالش کے استعمال میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔

Remove Your Eyes Weakness....اپنی آنکھوں کی کمزوری دور کیجئے

یوں تو جسم کا ہر حصہ انسان کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے لیکن آنکھیں قدرت کا عطا کردہ ایسا بیش بہا تحفہ ہے کہ جس سے انسان کائنات کے رنگوں اور حسن و دلکشی سے لطف اندوز ہوتا ہے اور جب کہ اس کی اہمیت کا احساس اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب انسان کی بینائی کھو جائے تو زندگی پھیکی اور بوجھ لگنے لگتی ہے، انہی آنکھوں پر ذرا سی توجہ دے کر ہم اپنی بینائی کو بہترکرسکتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کہ مختلف ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کردہ آسان ٹپس اور  ذرا سی کوشش سے آنکھوں کی بینائی کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
آنکھوں کے لیے ریلیکسیشن مشق: اپنے دونوں ہاتھ کی ہتھیلیوں کو آپس اچھی طرح رگڑیں یہاں تک کہ وہ گرم ہوجائیں اب انہیں اپنی آنکھوں پر کچھ دیر کے لیے رکھ دیں جبکہ اس دوران روشنی کو آنکھ تک نہ آنے دیں، یہ عمل دن میں کئی بار دہرایا جاسکتا ہے۔
آنکھوں کو مسلسل جھپکانا: مسلسل آنکھوں کو جھپکانے سے آنکھیں تازہ رہتی ہیں اور آنکھ پر کام کے بوجھ کے اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ کمپوٹر پر کام کرتے ہیں ان کی آنکھیں مسلسل ایک ہی جگہ دیکھنے کی وجہ سے جلدی تھک جاتی ہیں ایسے افراد کے لیے ہر 3 سے 4 سینکڈ بعد آنکھیں جھپکانا بہترین مشق ہے۔
فاصلے پر نظر جمائیں: کمپیوٹر استعمال کرنے والے لوگ عام طور پر دور کی نظر کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں ایسے افراد کو چاہئے کہ زیادہ فاصلے پر موجود کسی چیز کو بغور 5 سیکنڈ تک دیکھیں اور اس عمل کو 30 سے 45 منٹ بعد دہرائیں، اس عمل سے دور کی اشیا پر فوکس رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
پانی کے چھینٹے ماریں: اگر آپ محسوس کریں کہ آپ کی آنکھیں بوجھل ہورہی ہیں تو فوری اپنی آنکھوں کو اچھی طرح پانی سے دھو لیں اس دوران پانی کو زور سے آنکھوں پر ماریں جبکہ اس عمل کو روزانہ دہرائیں۔ اس طرح دھونے سے آنکھوں پر پڑنےوالے زیادہ بوجھ سے نجات مل جائے گی اور تازگی محسوس کریں گے۔
ہندسے 8 کی مشق: یہ مشق آنکھوں کی لچک کو بڑھا دیتی ہے، اس مشق کے دوران  اپنے تصور میں 8 کے ہندسے کو خود سے 10 فٹ کے فاصلے  پربنائیے اور اپنی آنکھوں میں الگ الگ 8 کے ہندسے کو ٹریس کریں۔
زومنگ ورزش کی مشق:آرام دہ پوزینشن میں بیٹھ جائیں، اپنے بازوں کو آگے کی طرف مکمل طور پر پھیلا دیں اور ہاتھ کے انگھوٹوں کو آہستہ آہستہ اپنے چہرے کے قریب لاتے جائیں یہاں تک کہ انگھوٹے چہرے سے صرف 3 انچ کے فاصلے پر رہ جائیں، اب اپنے انگھوٹوں کو دوبارہ اپنے چہرے سے دور کرتے جائیں۔ اس مشق کو چند سیکنڈز تک دہرائیں۔
صبح کی واک: علی الصبح واک آنکھوں کو تازگی اور سکون دیتی ہے جبکہ صبح سورج کی مناسب روشنی بھی آنکھوں کو حاصل ہوتی ہے۔
اپنی آنکھوں کو چشمے کا محتاج نہ بنائیں: چشموں سے صرف آنکھوں کی تیزی سے خراب ہوتی روشنی کو روکا تو جاسکتا ہے لیکن بہتر نہیں کیا جاسکتا اس لیے کوشش کریں کہ اوپر دی گئی ٹپس کا استعمال کریں اور اپنی آنکھوں کو چشمے کا محتاج نہ بنائیں۔

Tuesday, 19 May 2015

Vitamin C Is Essential For Health.....صحت کے لئے ’’وٹامن سی‘‘ انتہائی ضروری

وٹامن سی ہڈیوں اور دانتوں کو بھی مضبوط اور صحت مند بناتا ہے، فوٹو:فائل
 کراچی: وٹامن سی  نہ صرف ہمیں گرمی کے موسم میں  جسم پر پڑنے والے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے  بلکہ  بیماریوں سے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
وٹامن سی ہمارے جسم میں موجود پانی اور خون میں شامل ہو کر بالوں،ناخنوں اور جلد کی نشو ونما میں مفید ثابت ہوتا ہے جب کہ یہ ہڈیوں اور دانتوں کو بھی مضبوط اور صحت مند بناتا ہے۔وٹامن سی تازہ سبزیوں اور ترش پھلوں میں بکثرت پایا جاتا ہے ،اگر آپ وٹامن سی کی کمی کا شکار ہیں تو درج ذیل چیزوں کا استعمال کرکے خود کوصحت مند بناسکتے ہیں۔

مالٹا:
یہ  وٹامن  حاصل کرنے کا سب بڑا خزانہ ہے اور اس میں کثیر مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔ اس کےجوس میں شامل فلیونائیڈز وٹامن سی کے ساتھ مل کر جسم کے مدافعتی نظام کو بڑھاوا دیتے ہیں اور خون کی نالیوں کو مضبوط بناتے ہیں، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق مالٹا کھانے سے انسانی مزاج پر انتہائی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
شملہ مرچ:یہ سبزی بھی توانائی حاصل کرنے کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے اور اس میں  بڑی مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے۔سلاد  اور سوپ میں شامل کرکے اس بہترین سبزی کے فوائد سے مکمل طور پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
اسٹرابری:
بڑی مقدار میں وٹامن سی حاصل کرنے کے لئے اسٹرابری  سے بہترین کوئی چیز نہیں،ذائقہ بخش اور فرحت افزا یہ پھل وٹامن سی کے علاوہ فولاد سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔اسٹرابری کا ملک شیک بنا کر پینے سے اس کے فوائد میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

پپیتا:
یہ پھل بھی وٹامن  سی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،اس کے علاوہ پپیتے میں وٹامن اے اور پوٹاشیم بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ،پپیتا قبض کشاء پھل ہے جس میں فائبر کی موجودگی کولیسٹرول لیول کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔

Friday, 15 May 2015

Lemon: Invaluable Gift of Nature With Numerous Features .....قدرت کے انمول تحفے لیموں کی بے شمار خوبیاں

اگر آپ کی جلد خشک اور رف ہے تو لیموں کے رس کے ساتھ اتنی ہی مقدار میں شہد ملا لیں اور اسے اپنے چہرے، ہاتھ اور پاؤں پر لگائیں، فوٹو فائل
لیموں قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جو اپنے اندر بے شمار خوبیاں سموئے ہوئے ہے جب کہ اس کی مدد سے جلد، بال اور ناخن کو خوبصورت اور دلکش بنایا جاسکتا ہے۔
لیموں کے رس سے جلد کو نکھاریئے: اکثر لوگ بالخصوص خواتین اپنے چہرے پر کیل مہاسوں اور کالے رنگ کے نشانات بن جانے سے سخت پریشانی رہنے لگتی ہیں اور اس کو دور کرنے کے لیے انتہائی مہنگی کریموں کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن لیموں کا رس یہ کام کم وقت اور کم خرچے میں کر دیتا ہے۔ لیموں کے چند قطرے لیں اور روئی کے ٹکڑے میں جذب کر کے اپنے چہرے پر لگائیں اور 20 منٹ بعد چہرہ دھو لیں اس عمل کو ایک دن چھوڑ کر دہرائیں آپ کے چہرے کے داغ اور کیل مہاسے دور ہوجائیں گے۔
اگر آپ کی جلد خشک اور رف ہے تو لیموں کے رس کے ساتھ اتنی ہی مقدار میں شہد ملا لیں اور اسے اپنے چہرے، ہاتھ اور پاؤں پر لگائیں، چند دن میں اس کے حیرت انگیز نتائج آپ کے سامنے ہوں گے۔ چہرے پر تازگی اور چمک لانے کے لیے بھی لیموں کے جوس اور ناریل کے پانی کو ملا کر چہرے ہر لگائیں اور روزانہ فیس واش کی طرح اپنے چہرے کو اس سے دھو لیں۔ کوہنیوں، ایڑھیوں اور پاؤں کے انگوٹھوں پر پڑ جانے والے کالے نشان ختم کرنے کے لیے جسم کے ان حصوں پر لیموں کے چھلکے مسلیں اس سے جلد ان نشانات سے چھٹکارا مل جائے گا۔
ناخنوں کی خوبصورتی کے لیے: عام طورپر خواتین بھربھرے اور پیلے ہوتے ناخنوں سے سخت پریشان ہوتی ہیں تو جناب اس کا بہت ہی آسان حل موجود ہے۔ لیموں کے جوس میں چند قطرے کسٹرڈ آئل یا بادام کا تیل ملا دیں اس مکسچر کو 20 منٹ تک لگا رہنے دیں اور بعد میں ہلکے گرم پانی سے دھولیں۔
صحت مند بالوں کے لیے: بالوں کے گرنے اور خشکی سے اکثر خواتین پریشان رہتی ہیں اور اس کے علاج کے لیے شیمپو اور کئی طرح کے تیل استعمال کرتی ہیں لیکن توقع کے مطابق نتائج حاصل نہیں کرپاتیں۔ لیموں کے رس میں اس کا حل موجود ہے، چند قطرے لیموں کا رس ہفتے میں 3 دن اپنے بالوں پر لگائیں جس سے آپ کے بال نہ صرف چمکدار بلکہ مضبوط بھی ہو جائیں گے۔
ہونٹوں کی خوبصورتی کے لیے: لیموں پھٹے ہوئے اور سیاہ ہونٹوں کو نہ صرف نرم  بلکہ گلابی بنا دیتے ہیں، لیموں کے رس کو تھوڑی مقدار میں چینی کے ساتھ ملا کر اپنے ہونٹوں پر لگائیں تو جلد آپ کے ہونٹ نرم اور گلابی ہوجائیں گے۔

Easy To Clean Teeths And Make Them Flashy With Home Prescription....دانتوں کو صاف اور چمک دار بنانے کے آسان گھریلو نسخے

کراچی: دانتوں پر گہرے رنگ کی تہہ کو ’’پلاک‘‘ کہا جاتا ہے جو دانتوں کی خوبصورتی اور چمک کو متاثر کرتا ہے اوراسے صاف کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا لیکن اب آپ آسان گھریلو نسخوں کے ذریعے اپنے دانتوں کو صاف اور چمکدار بنا سکتے ہیں۔
میٹھا سوڈا 
اگر میٹھا سوڈا ( بیکنگ سوڈا) تھوڑا پرانا ہو تو اس سے دانت بہت اچھی طرح صاف ہوسکتے ہیں اس کے لیے برش کو تھوڑا گیلا کریں اور اس پر میٹھا سوڈا لگا کر دانتوں پر ملیں جب کہ اس میں ایک چٹکی نمک ملا کر استعمال کیا جائے تو دانت اور زیادہ چمکدار ہوسکتے ہیں۔
 سیب کا سرکہ
دانتوں کو صاف کرنے کے لیے ایک اچھا نسخہ سیب کا سرکہ بھی ہے، برش کو سرکے میں ڈبوکر گندے دانتوں پر آزمائیے اور اس کے بعد اچھی طرح کلی کرلیں کیونکہ سرکے سے دانتوں کے انیمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہٰذا اس عمل کو مکمل کرنے کےبعد آپ کو چند دنوں میں بھی حوصلہ افزا نتائج نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔
سورج مکھی کے بیج اور ورکش پھول
سورج مکھی کے پھول ، ورکش پھول یا شجرِ لائم (linden flower) بھی دانتوں کو چمکدار بنانے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں اس کے لیے 4 چمچے سورج مکھی کے پھول ، 4 چمچے ورکش پھول اور ایک لیٹر پانی لیں ان سب کو ملاکر دھیمی آنچ پر آدھے گھنٹے تک پکائیں اور ہر کھانے کے بعد اس سے دانت برش کریں اور پھر دیکھیں کہ چند دنوں میں آپ کے دانت کتنے صاف ہوجاتے ہیں۔